Showing posts with label geet. Show all posts
Showing posts with label geet. Show all posts

Saturday, 30 January 2016

kook mere dil kook

1 comments
کُوک مرے دل کُوک

ہر سینے کونے چار
ہر کونے درد ہزار
ہر درد کا اپنا وار
ہر وار کی اپنی مار
ترے گردو پیش ہجوم
کئی سورج، چاند، نجوم
ہر جانب چیخ پکار
تری کوئی سنے نہ ہوک
کبھی کُوک مرے دل کُوک
ہر سینے آنکھیں سو
ہر آنکھ کی اپنی لو
پر پوری پڑے نہ ضو
کبھی پھوٹ سکی نہ پو
ترے صحن اندھیرا گھپ
تری اللہ والی چپ
ترے مٹی ہوگئے جو
تری کون مٹائے بھوک
کبھی کُوک مرے دل کُوک
ہر سینے سو سو جنگ
تری سانس کے رستے تنگ
ترا نیلا پڑ گیا رنگ
ترے نت نرالے ڈھنگ
لمحوں کے خنجر تیز
ہر دھار اذیت خیز
ترا نازک اک اک انگ
ترا اک اک تار ملوک
کبھی کُوک مرے دل کُوک
کبھی کُوک مرے دل کُوک

فرحت عباس شاہ


mera shaam saloona shah piya

1 comments
مرا شام سلونا شاہ پیا

کبھی جڑوں میں زہر اتار لیا
کبھی لبوں کے پیچھے مار لیا
اس ڈر سے کہ درد کی شدت میں
کہیں نکل نہ جائے آہ پیا
مرا شام سلونا شاہ پیا

ہمیں جنگل جنگل بھٹکا دو
ہمیں سولی سولی لٹکا دو
جو جی سے چاہو یار کرو
ہم پڑ جو گئے تری راہ پیا
مرا شام سلونا شاہ پیا

کہیں روح میں پیاس پکارے گی
کہیں آنکھ میں آس پکارے گی
کہیں خون کہیں دل بولے گا
کبھی آنا مقتل گاہ پیا
مرا شام سلونا شاہ پیا

تری شکل بصارت آنکھوں کی
ترا لمس ریاضت آنکھوں کی
ترا نام لبوں کی عادت ہے
مری اک اک سانس گواہ پیا

مرا شام سلونا شاہ پیا
ہمیں مار گئی تری چاہ پیا

فرحت عباس شاہ


saiyan zaat adhoori hai

4 comments
سائیاں ذات ادھوری ہے 

سائیاں ذات ادھوری ہے 
سائیاں بات ادھوری ہے
سائیاں رات ادھوری ہے
سائیاں مات ادھوری ہے
دشمن چوکنا ہے لیکن
سائیاں گھات ادھوری ہے

سائیاں تیرے گاؤں میں
دکھ کی سیاہ فضاؤں میں
نا مانوس ہواؤں میں
لوگوں اور بلاؤں میں
قید ہوئے ہیں مدت سے
ہم نے کار دعاؤں میں

سائیاں رنج ملال بہت
دیوانے بے حال بہت
قدم قدم پر جال بہت
پیار محبت کال بہت
اور اسی عالم میں سائیاں
گزر گئے ہیں سال بہت

سائیاں ہر سو درد بہت
موسم موسم سرد بہت
رستہ رستہ گرد بہت
چہرہ چہرہ زرد بہت
اور ستم ڈھانے کی خاطر 
تیرا اک اک فرد بہت

سائیاں تیرے شہر بہت
گلی گلی میں زہر بہت
خوف زدہ ہے دہر بہت
اس پر تیرا قہر بہت
کالی راتیں اتنی کیوں 
ہم کو ایک ہی پہر بہت

سائیاں دل مجبور بہت
روح بھی چور و چور بہت
پیشانی بے نور بہت
اور لمحے مغرور بہت
ایسے مشکل عالم میں
تو بھی ہم سے دور بہت

سائیاں راہیں تنگ بہت 
دل کم ہیں اور سنگ بہت
پھر بھی تیرے رنگ بہت 
خلقت ساری دنگ بہت
سائیاں تم کو آتے ہیں
بہلانے کے ڈھنگ بہت

سائیاں میرے تارے گم 
رات کے چند سہارے گم
سارے جان سے پیارے گم 
آنکھیں گم نظارے گم
ریت میں آنسو ڈوب گئے
راکھ میں ہوئے شرارے گم

سائیاں میری راتیں گم
ساون اور برساتیں گم
لب گم گشتہ باتیں گم
بینائی گم جھاتیں گم
جیون کے اس صحرا میں
سب جیتیں سب ماتیں گم

سائیاں جان بیمار ہوئی
صدموں سے دو چار ہوئی
ہر شے سے بیزار ہوئی
ہر اک سپنا سنگ ہوا
ہر خواہش دیوار ہوئی

سائیاں رشتے ٹوٹ گئے
سائیاں اپنے چھوٹ گئے
سچ گئے اور جھوٹ گئے
تیز مقدر پھوٹ گئے
جانے کیسے ڈاکو تھےجو
لٹے ہوئوں کو لوٹ گئے

سائیاں خواب اداس ہوئے
سرخ گلاب اداس ہوئے
دل بے تاب اداس ہوئے
دور سحاب اداس ہوئے
جب سے صحرا چھوڑ دیا
ریت سراب اداس ہوئے

سائیاں تنہا شاموں میں
چنے گئے ہیں باموں میں
چاہت کے الزاموں میں
شامل ہوئے ہے غلاموں میں
اپنی ذات نہ ذاتوں میں
اپنا نام نہ ناموں میں

سائیاں ویرانی کے صدقے 
اپنی یزدانی کے صدقے
جبر انسانی کے صدقے
لمبی زندانی کے صدقے
سائیاں میرے اچھے سائیاں 
اپنی رحمانی کے صدقے

سائیاں میرے درد گھٹا
سائیاں میرے زخم بجھا
سائیاں میرے عیب مٹا 
سائیاں کوئی نوید سنا
اتنے کالے موسم میں 
سائیاں اپنا آپ دکھا

سائیاں میرے اچھے سائیاں
سائیاں میرے دولے سائیاں
سائیاں میرے پیارے سائیاں
سائیاں میرے بیبے سائیاں

فرحت عبّاس شاہ


Tuesday, 26 January 2016

kabi badal vaar baras saien

0 comments
کبھی بادل وار برس سائیں
مرا سینہ گیا ترس سائیں

میں توبہ تائب دیوانہ
آبادکروں کیا ویرانہ
مر بس سائیں، مری بس سائیں
کبھی بادل وار برس سائیں

اس عشق نے عجب اسیر کیا
خود دل سینے میں تیر کیا
کیا چلے گی پیش و پس سائیں
کبھی بادل وار برس سائیں

ہم بھی کچھ کھل کر سانسیں لیں
اشکوں سے دھل کر سانسیں لیں
کچھ گھول فضا میں رَس سائیں
کبھی بادل وار برس سائیں

فرحت عباس شاہ
(من پنچھی بے چین)


Sunday, 24 January 2016

chaand utra hai aankh kinaray

0 comments
چاند اترا ہے آنکھ کنارے

تو کیوں میرے دل کے سہارے
رونے بیٹھ گیا ہے
چاند اترا ہے آنکھ کنارے
رونے بیٹھ گیا ہے

ایک اک کر کے گرے ستارے
دامن بھیگ گیا ہے
اندر اندر آنسو ٹپکے 
اور من بھیگ گیا ہے
دل جانے کس درد کے مارے
رونے بیٹھ گیا ہے

رات ڈھلی تو آخر اک اک
تارا ڈوب گیا ہے
بیچ سمندر ایک عجیب
 کنارہ ڈوب گیا ہے
ایک پرندہ غم کے دھارے
رونے بیٹھ گیا ہے

فرحت عباس شاہ
(مت بول پیا کے لہجے میں)



saajan seedha saada

0 comments
ساجن سیدھا سادہ

ابھی سے پوچھ رہا ہے مجھ سے ساجن سیدھا سادہ
تم کو پیار زیادہ ہے یا مجھ کو پیار زیادہ

جھوٹ بھی کہہ دو تب بھی مانوں
میں تو اپنا ہی جانوں
میں تم سے کچھ بھی نہ کہوں گی
کرتی ہوں یہ وعدہ۔۔۔۔
تم کو پیار زیادہ ہے یا مجھ کو پیار زیادہ

پیار کے لاکھوں دیپ جلائیں
اک دوجے کا ساتھ نبھائیں
اک دوجے کا مان رکھیں گے
کر لیں آج ارادہ۔۔۔۔
تم کو پیار زیادہ ہے یا مجھ کو پیار زیادہ

ویرانی کو شہر بنا دیں
چاند کا پہلا پہر بنا دیں
دل میں سب جیون آجائے
اتنا کریں کشادہ۔۔۔۔
تم کو پیار زیادہ ہے یا مجھ کو پیار زیادہ

فرحت عباس شاہ
(مت بول پیا کے لہجے میں)


Saturday, 23 January 2016

kabhi aa mil sanwal yaar ve

5 comments
کبھی آ مل سانول یار  وے
مرے لوں لوں چیخ پکار  وے

میری ارتی ہوئی اُداس وے
میرا سانول آس نہ پاس وے
مجھے ملے نہ چار کہار  وے
کبھی آ مل سانول یار  وے

تجھ ہر جائی کی بانہوں میں
اور پیار پریت کی راہوں میں
میں بیٹھی سب کج ہار  وے
کبھی آ مل سانول یار  وے

مجھے ہجر نہ آیا راس نی
میرا چن چن کھا گیا ماس نی
مجھے گیا وچھوڑا مار  وے
کبھی آمل سانول یار وے

کوئی بدلی بن بن برس گئیں
میری آنکھیں پِیا کو ترس گئیں
دل روئے زار  قطار  وے
کبھی آمل سانول یار  وے

کبھی آمل سانول یار  وے
میرے لوں لوں چیخ پکار  وے

فرحت عباس شاہ