وہ کہتی ہے


کتاب : وہ کہتی ہے
شاعر : فرحت عباس شاہ
کمپوزر : زین شکیل



**********************

کچھ اپنے بارے میں

برسوں پہلے کی بات ہے
جب میں ایک چپ چاپ محبت کرنے والا
اور کچھ بھی نہ کہہ پانے والا
اور ساری کی ساری بات کو
خاموشی کی شریانوں میں دفن کر دینے والا دل تھا
پھر میں نے بات کرنا سیکھا
محبت نے چپ رہنا
اور جدائی نے آواز دینا
اور دکھوں نے بات کرنا سیکھا
پھر جب میرا صبر پہلی بار مرا
تو غصے نے مجھے چیخنا سکھایا
پھر میرا صبر بار بار موت کی دہلیز سے ٹکراتا رہا
اور چیخ چیخ کر میرا گلا رندھ گیا
یوں بے بسی نے مجھے
 ہونٹ آپس میں پیوست کر دینا
اور منہ کو سختی سے بند کر لینا سکھایا
اور میں خود کلامی سے ہم کلامی کی منزل پر جا پہنچا
میں سمجھتا ہوں
شاعری خود کلامی نہیں ہم کلامی ہے
جب انسان اپنی ذات سے ہم کلام ہوتا ہے
تو اس کا جی چاہتا ہے وہ اپنے خدا سے ہم کلام ہو
کلام کی آخری منزل
خدا سے ہم کلام ہونا ہے
میں تنہائی کی نہ جانے کتنی صدیاں 
اپنی شہہ رگ کے آس پاس گھومتا رہا
اپنے دل کی مسجد میں سر بہ سجدہ رہا
اور مجھے لگا پوری سچائی سے پکارنا ہی
خدا سے ہم کلام ہونا ہے
یہ مجھے ’’سرابی‘‘ کی ریاضت کے بعد نصیب ہوا
درمیان میں زمانہ بھی آڑے آتا رہا
شاید انسان اور خدا کے درمیان
سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا انسان ہونا ہے
شاید فرشتوں کے لیے مسائل اور طرح کے ہوں
میں نے بھی دنیا دار بن جانے کی پوری کوشش کی
اور ناکام رہا
ایک شاعر کے لیے دنیا دار ہونا
دنیا کا مشکل ترین کام ہے
پھر یکے بعد دیگرے بچھڑنے والوں نے بھی
مجھے بہت زیادہ ناتواں کیا
اگرچہ احساسِ زمہ داری نے
وقت سے پہلے بوڑھا ہونے میں میری مدد کی
لیکن ساتھ ساتھ مجھے قید بھی رکھا
بڑھاپا آزاد ہو تو بڑے کام کی چیز ہے
شاید اسی لیے ہر کوئی آخری عمر میں زیادہ دلجمعی سے
عبادت کی طرف لوٹتا ہے
مجھے یاد ہے
پچھلے ایک خاص عرصے سے
میں کچھ بھی نہیں بول سکا
بلکہ شاید کوئی بھی کچھ نہیں بول سکا
صرف موت بولی ہے
اور جب موت بولتی ہے
تو صرف خاموشی ہی رہ جاتی ہے
منتشر کر دینے والی خاموشی
جو روح کے ایک ٹکڑے میں
چبھ جاتی ہے
اس میں بس کبھی کبھار کچھ ایسے لمحے آئے
جب موت سے کچھ فرصت ملی
تو میں نے کسی بہت ہی اپنے سے کچھ باتیں کیں
ان میں چند باتوں میں
آپ کو بھی شریک کر رہا ہوں
میں نے آپ سے نہ پہلے کچھ چھپایا ہے
اور نہ اب چھپاؤں گا
میری خاموشی بھی آپ کے ساتھ
اور میری باتیں بھی

فرحت عباس شاہ

**********************
آزاد مکالماتی غزلیں
**********************

وہ کہتی ہے زمانے سے بہت بددل ہوئی ہوں میں
میں کہتا ہوں زمانے سے توقعات ہی کیسی

وہ کہتی ہے کہ فرحت میں زمانے بھر میں تنہا ہوں
میں اپنے نارسا اشکوں سے اس کا دل تھپکتا ہوں

وہ کہتی ہے مسلسل غم نے مجھ کو روند ڈالا ہے
مرے اعصاب میں پہلی سی اب طاقت نہیں فرحت

میں کہتا ہوں تمہیں معلوم ہے یہ رنج و غم کیا ہیں
یہ سرطانی جراثومے ہیں، انسانوں کی دیمک ہیں

مگر میں نے تو اپنے دل میں ان کی پرورش کی ہے
میں گھبرایا نہیں ان سے میں ڈھے پایا نہیں ان سے

میں کہتا ہوں تجھے بارش سے کیا کیا بات کرنی ہے
وہ کہتی ہے مرا ان بارشوں میں دل نہیں لگتا

اداسی گھیر لیتی ہے بہت بے چین رہتی ہوں
یہ موسم میری آنکھوں میں جدائی کھینچ لاتا ہے

وہ کہتی ہے کہ سینے کی گھٹن اب مار ڈالے گی
مجھے تو سانس لینا بھی بہت دشوار لگتا ہے

بہت ہی بے بسی سے میں یہ ساری بات سنتا ہوں
مری آنکھوں میں اشکوں کی قطاریں ٹوٹ جاتی ہیں

وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتی ہے۔۔۔سنو فرحت!
مجھے اب زندگی مشکل، اجل آسان لگتی ہے

فرحت عباس شاہ

**********************

میں کہتا ہوں، میں اپنی موت کا منظر دکھوں مارا
مرے دامن میں افسردہ تسلی کے سوا کیا ہے

میں اس سے پوچھتا ہوں کیا بھلا ہے مشترک ہم میں
وہ دل پر ہاتھ رکھتی ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

میں اس سے پوچھتا ہوں بات کا موضوع بدلوگی
وہ کہتی ہے کہ میرے پاس اب اس کے سوا کیا ہے

میں اس سے پوچھتا ہوں، کس طرح کے گیت سنتی ہو
وہ کہتی ہے کہ جو اندر کے موسم کی طلب میں ہوں

میں اس سے پوچھتا ہوں کیا کبھی باہر نکل دیکھا
وہ کہتی ہے کہ میں ماحول کے نرغے میں رہتی ہوں

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ کہتی ہے ہمارے خواب بد قسمت سفر جھوٹا
ہماری خواہشیں تک دربدر بیمار پھر تی ہیں

ہماری بدنصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی
ہمارا ملک اپنے قاتلوں کی دسترس میں ہے

یہ قاتل خاک میں ملبوس ہیں اور کہتے پھرتے ہیں
کہ ہم تو آسماں کی مہربانی ہیں زمینوں پر

وہ کہتی ہے کہ پاکستا ن کی حالت نہ بدلے گی
یہ لاوارث زمیں ہے اور اس کی کون سنتا ہے

یہ مٹی جس کا سینہ ایڑیوں کی زد میں آیا ہے
یہ جرنیلوں کی بھاری ایڑیاں اور بے نفس سینہ

یہ بزدل مورچوں سے بھاگ کر آتے ہیں اور دیکھو
خود اپنے شہریوں پر تان لیتے ہیں گنہگاری

یہ اپنے ملک کے آئین کے فاتح سیہ نیت
سمجھتے ہیں کہ عقلِ کُل نہیں ان کے سوا کوئی

وہ بولی یہ جو اپنے آپ کو آقا سمجھتے ہیں
ہمارا خون پی پی کر پلے، پچاس سالوں میں

وہ بولی دو نوالوں کے لیے خلقت ترستی ہے
مگر اس مقتدر طبقے کی نیت ہی نہیں بھرتی

یہ دوزخ کے شکم والے، درندے، بھیڑیے بھوکے
ہماری پاک دھرتی کا بدن چرتے نہیں تھکتے

ہمیں کشمیر کے دھوکے میں رکھ کر قتل کر ڈالا
نہ جانے کتنی ماؤں کے جواں سالوں کو لمحوں میں

وہ بولی کون سے کشمیر کی خاطر ہمارا دل
کبھی ہاتھوں، کبھی پاؤں کبھی الفاظ سے مسلا

اور اب زخموں کا سودا کر دیا چپ چاپ، وہ بولی
میں بولا اور اب یہ گھر کرائے کے لیے خالی

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ بولی رات کے ماتھے پہ اک گھاؤ سلگتا ہے
میں بولا چاند سے اتنی شکایت کیوں ہوئی تم کو

وہ بولی بے سبب ویرانیاں حصے میں آئی ہیں
میں بولا یہ سبھی کچھ آپ مجھ کو سونپ سکتی ہو

وہ بولی گھر کی دیواریں بہت خاموش رہتی ہیں
میں بولا ہجر کو عادت بنا ڈالو تو اچھا ہے

وہ بولی خوشبوئیں احساس کی ممنون کب ہوں گی
میں بولا جب قبولیت درِ مسکان کھولے گی

وہ بولی کیا محبت کی وضاحت ہے کبھی ممکن
میں بولا درد مقناطیسیت، قربانیاں، وحشت

فرحت عباس شاہ

**********************

محبت کے فرائض میں۔۔۔وہ بولی۔۔درد کیوں شامل؟
میں بولا یہ فرائض میں نہیں مٹی میں شامل ہے

وہ بولی درد کا کردار اور منصب بھلا کیا ہے
میں بولا درد بن نرمی کہاں سے آئے گی دل میں

میں بولا کیا کبھی دوجے کسی کا درد جھیلا ہے
وہ میری بات سے چونکی مگر بولی نہیں کچھ بھی

میں بولا، ہے بہت لازم یہ تفہیم محبت میں
دکھوں کے کتنے درجے ہیں غموں کے مرحلے کتنے

مری جاں اب وفاؤں پر بھی کب موقوف ہے دنیا
میں کہتا ہوں کہ اب یہ سارے یکطرفہ مسائل ہیں

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ بولی ہجر کے مارے ہوؤں کی بات کرتے ہیں
میں بولا ہجر کے مارے ہوؤں کی کون سنتا ہے

وہ بولی میں سمندر کے کنارے گھر بناؤں گی
میں بولا میں ضرور آؤں گا تم دونوں سے ملنے کو

وہ بولی میں سمندر سے کہوں گی شام آنکھوں میں
کسی موجِ فنا سے لکھ دے تیرا نام آنکھوں میں

وہ بولی میں کہوں گی کوئی تو پیغام آنکھوں میں
کسی کا پیار ہے میرے لیے انعام آنکھوں میں

میں بولا ہو سکے تو آج مجھ کو تھام آنکھوں میں
وگرنہ گم ہوا میں بھی تری بدنام آنکھوں میں

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ بولی کیا چھپا ہے ان تری ویران آنکھوں میں
میں بولا غم ہی غم ہے ان مری بے جان آنکھوں میں

وہ بولی مجھ کو تم سے پیار تو ہو ہی نہیں سکتا
میں بولا میں نے دیکھا ہے تری انجان آنکھون میں

میں بولا پیار کیا اس کے علاوہ بھی اگر کچھ ہو
کوئی شے بھی نہیں چھپتی تری نادان آنکھوں میں

میں بولا جب کسی سے زندگی کی بات کرتا ہوں
چھلک کر آن پڑتے ہیں کئی ارمان آنکھوں میں

میں بولا یہ جو اب تک رنج و غم کی گونج باقی ہے
کوئی تو شہر اجڑا تھا مری ویران آنکھوں میں

فرحت عباس شاہ

**********************

میں بولا ٹوٹ جاتی ہے اگر ہر آس آنکھوں میں
تو پھر یہ بولتا کیونکر نہیں احساس آنکھوں میں

وہ بولی رات تیرے غم کی بارشی تھی بہت فرحت
یہ دیکھو بس گئی ہے کس طرح کی باس آنکھوں میں

عجب سی اک چبھن ہے اور نہ جانے کیوں مسلسل ہے
یہ آنسو ہیں یا کوئی پڑ گئی ہے گھاس آنکھوں میں

وہ بولی ہے کسی صحرا کی شدت سی سمند ر میں
کہ جیسے جم گئی ہو مدتوں کی پیاس آنکھوں میں

وہ بولی تم کو آخر کیا نظر آیا ان آنکھوں میں
میں بولا میں ان آنکھوں سے نکل پاؤں تو کچھ بولوں

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ کہتی ہے مرے سینے میں کس نے تلخیاں بھر دیں
میں کہتا ہوں کہ اس سازش میں ساری دنیا شامل ہے

وہ کہتی ہے کہ کس نے ہنستے بستے شہر کو روندا
میں کہتا ہوں درندوں نے جو خود کو شہر کہتے ہیں

وہ کہتی ہے کہ کیا کوئی نہیں ہے روکنے والا
کوئی تو ہو کہ جو بڑھتی ہوئی بربادیاں روکے

میں بولا آچکے ہیں ہم بڑی مدت سے نرغے میں
بلاؤں کے، قضاؤں کے، ہواؤں کے، خلاؤں کے

وہ بولی کیا غریبوں کا مداوا ہی نہیں کوئی
میں بولا بدنصیبوں کو کبھی فرحت نہیں ملتی

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ مجھ سے پوچھتی ہے زندگی کا دائرہ کیا ہے
میں کہتا ہوں سوائے سوچ کے محدود ہے ہر شے

مگر اک المیہ یہ بھی تو ہے اس میری نگری میں
یہاں پر سوچ بھی محدود ہے اور فکر بھی فرحت

یہ منفی لوگ ہیں اور فطرتاً جاہل ہیں، میں بولا
وہ بولی، اور سیہ کاری میں ان جیسا نہیں کوئی

معاشرتی وضع داری تو ان کو چھو نہیں پائی
یہ ان پڑھ قوم ہے اور علم کے سائے سے ڈرتی ہے

میں بولا ڈگریاں بکتی ہیں اور بکتی بھی ہیں سستی
جسے کچھ بھی نہیں آتا وہی استاد بنتا ہے

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ بولی پھول پر شبنم نہیں، ہیں خون کے قطرے
ہوا میں جسم جلنے کی ہلاکت خیز بدبو ہے

سڑک پر حادثوں کا رقص بھی ہے دیر سے جاری
گھروں میں بھی نہیں محفوظ دولت، جان اور عزت

میں بولا اب تو جعلی بادشہ بھی یار کے ہاتھوں
بھرے دربار میں ذلت سے ہے تختہ کیا جاتا

وہ بولی کیا ہماری فوج خود ہم کو ہی مارے گی
میں بولا ہاں مگر فوجی نہیں، جرنیل ماریں گے

ہماری فوج تو معصوم ہے جرنیل شاطر ہیں
ہماری فوج تو مظلوم ہے جرنیل ظالم ہیں

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ مجھ سے پوچھتی تھی زخم کب جائیں گے تن من سے
میں کہتا تھا مرا مولا کرم فرمائے گا جلدی

وہ کہتی تھی کہ میری روح میں سوراخ ہے کوئی
میں کہتا تھا مری چھایا تم ایسا سوچتی کیوں ہو

وہ کہتی تھی مجھے غم ہے کہ تو تنہا ہے دنیا میں
ترا ساتھی نہیں کوئی، ترا وارث نہیں کوئی

میں کہتا تھا کہ تو ہے تو مرے دامن میں سب کچھ ہے
ترے باعث میں کتنا بخت ور ہوں اس زمانے میں

وہ کہتی تھی کہ میرے بعد تو بالکل اکیلا ہے
میں اس کی بات سنتا تھا سمجھ پاتا نہ تھا شاید

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ کہتی تھی کہ تُو چاروں طرف سے دشمنوں میں ہے
میں کہتا تھا مجھے تیری دعاؤں پر بھروسہ ہے

وہ کہتی تھی مجھے جانا ہے اک دن تیرا کیا ہوگا
میں کہتا تھا مجھے تیری وفاؤں پر بھروسہ ہے

وہ کہتی تھی کہ فرحت میں ترے دکھ جانتی ہوں سب
وہ کہتی اور پھر منہ پھیر کر آنسو چھپا لیتی

وہ کہتی تھی کہ اب میں موت کی مرہون منت ہوں
یہ جتنا وقت ہے اب درد اور غم کی امانت ہے

میں کہتا تھا ترے منہ سے میں جب یہ بات سنتا ہوں
مرے زخموں بھرے دل کو بہت تکلیف ہوتی ہے

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ کہتی ہے تری قسمت میں کیوں ہے اہتمام غم
میں کہتا ہوں کہ وارث کے لئے یہ فرض ہوتا ہے

وہ کہتی ہے کہ تم کم گو بہت ہو عشق کے بارے
میں کہتا ہوں عمل اور بات کے معنی سمجھتا ہوں

وہ کہتی ہے تمہاری شخصیت میں بے قراری ہے
میں کہتا ہوں کہ میں اس راستے کا راہ رو جو ہوں

وہ مجھ سے پوچھتی ہے پیار کو تم کیا سمجھتے ہو
میں کہتا ہوں نفی اپنی مگر اثبات دوجے کا

وہ کہتی ہے تری باتوں سے بے زاری جھلکتی ہے
میں کہتا ہوں کہ یہ خاموش رہنے کا سمے جو ہے

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ کہتی ہے کہ در کھٹکا
میں کہتا ہوں ہوا ہو گی

وہ کہتی ہے کوئی بولا
میں کہتا ہوں قضا ہو گی

وہ کہتی ہے کوئی رویا
میں کہتا ہوں وفا ہو گی

وہ کہتی ہے کوئی گزرا
میں کہتا ہوں صبا ہو گی

وہ کہتی ہے کہ برسی ہے
میں کہتا ہوں گھٹا ہو گی

وہ کہتی ہے کہ بے رخ ہوں
میں کہتا ہوں ادا ہو گی

وہ کہتی ہے محبت تھی
میں کہتا ہوں خطا ہو گی

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ بولی تم کہاں پر تھے
میں بولا گھر رہا ہوں میں

وہ بولی شہر کیسا ہے ہے
میں بولا ڈر رہا ہوں میں

وہ بولی کر رہے ہو کیا
میں بولا مر رہا ہوں میں

وہ بولی کیا بنا غم کا
میں بولا کر رہا ہوں میں

وہ بولی کب دھرو گے دل
میں بولا دھر رہا ہوں میں

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ بولی پیار کا مطلب
میں بولا انتہا دل کی

وہ بولی زندگی کیا ہے
میں بولا بس قضا دل کی

وہ بولی یہ جہنم کیا
میں بولا بدعا دل کی

وہ بولی جیب میں کیا ہے
میں بولا بس وفا دل کی

وہ بولی کون بچھڑا ہے
میں بولا اک خفا دل کی

وہ بولی کون تھی آخر
میں بولاحادثہ دل کی

وہ بولی کس طرح کی تھی
میں بولا تھی خدا دل کی

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ کہتی ہے ستارہ ہے
میں کہتا ہوں گوارہ ہے

وہ کہتی ہے کہ کیسے ہو
میں کہتا ہوں گزارا ہے

وہ کہتی ہے کہ غم کیا ہے
میں کہتا ہوں سہارا ہے

وہ کہتی ہے محبت کیا
میں کہتا ہوں کنارہ ہے

وہ بولی پھول مرجھایا
میں کہتا ہوں اشارہ ہے

وہ کہتی ہےوچھوڑا بھی
میں کہتا ہوں گوارا ہے

وہ بولی اک پرندہ تھا
میں بولا ہاں اتارا ہے

وہ بولی روح میں کیا ہے
میں بولا اک شرارہ ہے

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ بولی کوئی گھر میرا
میں بولا سب نگر میرا

وہ بولی دھوپ کتنی ہے
میں بولا دل شجر میرا

وہ بولی شہر والوں کو
میں بولا دیکھ ڈر میرا

وہ بولی میں کہاں جاؤں
میں بولا وا ہے در میرا

وہ بولی مجھ کو کچھ کچھ ہے
میں بولا ہاں اثر میرا

فرحت عباس شاہ

**********************

وہ کہتی ہے کہ جیون میں کسی نے زہر گھولا ہے
میں کہتا ہوں کہ ہم کچھ نفرتیں جو پال لیتے ہیں

وہ بولی نفرتوں کا بھی کوئی باعث تو ہوتا ہے
میں بولا دل میں ایسے چور دروازے ہی کیا رکھنے

وہ بولی زہر کی برسات جب جیون جلاتی ہے
میں بولا زہر برسے بھی تو اندر سے برستا ہے

وہ بولی آئینوں میں جو دراڑیں پڑ گئیں اب تک
میں بولا پھر تو بہتر ہے کہ آئینہ بدل ڈالو

وہ بولی میں بہت بیمار ہوں دنیا کی باتوں سے
میں بولا تم نے دنیا کو سماعت سونپ رکھی ہے

فرحت عباس شاہ

**********************
مکالماتی نظمیں
**********************

میں پیلے موسموں کا پھول ہوں

وہ بولی!
تم نے میری روح میں اک زرد رو سپنا اتارا ہے
میں اس سپنے میں سرسوں کی طرح 
پیلاہٹیں تقسیم کرتی ہوں
تجھے اس کا پتہ ہے کیا
میں بولا
زرد قسمت کے سوا مجھ کو
کسی نے کوئی بھی تحفہ نہیں بخشا
میں پیلے موسموں کا پھول ہوں
مجھ سے ہوا بھی دور رہتی ہے
کہ اپنی آرزوؤں کو بچا لو
سبز ہو جاؤ

فرحت عباس شاہ

**********************

عشق کا مطلب سمجھتی ہو

میں اس سے پوچھتا ہوں 
عشق کا مطلب سمجھتی ہو۔۔۔؟
تم اپنی ذات کی ہٹ دھرمیوں کو عشق کہتی ہو
مجھے قیدی بنانا چاہتی ہو
اور گر گٹ کی طرح ہر رنگ کو
میرے لیے تعظیم کے قابل سمجھتی ہو
تمہارا عشق بس اپنی انا کا خول ہے
اور خود غرض رومانس ہے
جس میں مری مرضی بھی وہ ہے
جو تمہاری خواہشوں کے سکھ میں آتی ہے
میں اس سے پوچھتا ہوں 
اور وہ گھنٹوں تک مجھے وہ سب جتاتی ہے
کہ جو اس نے کسی ایسے ہی لمحے کے لئے خود ہی کیا تھا
میرے ہر انکار کے رد میں

فرحت عباس شاہ

**********************

درد کو عادت بنا لے

وہ کہتی ہے
مسلسل دکھ ہمیں آزاد کر دینے سے منکر ہے
اداسی دل سے لپٹی ہے
مصیبت راہ میں بیٹھی ہوئی ہے کتنی صدیوں سے
ہم اپنے ہجر کے ہاتھوں
بھلا کب تک اجڑتے ہی رہیں گے
اور کہیں سے کوئی خوش خبری نہیں آئے گی
پرسے کو 
میں بولا
میں ترے دکھ کو سمجھتا ہوں
یہاں حساس دل
تاریں پرونے کے لئے ہی رہ گئے ہیں
یہ سزا ان کے نصیبوں میں لکھی ہے
درد کو عادت بنا لے!
ہجر کو دل میں پنپنے دے!
اداسی بھی سکوں دے گی

فرحت عباس شاہ

**********************

یہاں سب ایک جیسے ہیں

وہ مجھ سے پوچھتی ہے
دن بدن بڑھتی ہوئی ویرانیوں کو کون روکے گا
گھروں میں بیٹھ کر بھی بے تحفظ ہیں
مگر تم ہو کہ اب بھی کھوکھلی امید کو سینے لگائے
ملک کی مٹی کو سونا 
داغ کو بھی چاند کہتے ہو
سبب کیا ہے؟
میں بولا
اس میں مٹی اور وطن کا دوش کیا ہے
یہ تو ان سوداگروں کا کارنامہ ہے
جنہیں ماں، بہن، بیٹی جو بھی ہو سب بیچ کر
بس بنک بھرنے ہیں
سوئس بنکوں کے خفیہ گوشوارے
ملک کی ناموس قیمت سے زیادہ قیمتی ہیں ان کی نظروں میں
یہاں پر کون ایسا حکمراں آیا ہے
جس نے کچھ نہیں بیچا
یہ دھرتی کس قدر مظلوم ہے
کیونکہ یہاں حرص و ہوس میں سب کے سب ہی
ایک جیسے ہیں

فرحت عباس شاہ

**********************

لوگ تو قدرت کی شاپنگ کر رہے ہیں

وہ کہتی ہے
زمانہ کیوں بدلتا جا رہا ہے
لوٹ کر جنگل میں جانا تھا
درندوں کی طرح
معصومیت کا خوں بہانا تھا
تو بستی کی طرف آئے ہی کیونکر تھے
یہ اتنی بے حسی۔۔۔
بیمار رشتہ داریاں 
خالی تعلق۔۔
اور محبت کا ڈرامہ
سب 
یہ سب کیا ہے؟
میں بولا۔۔۔!
اصل میں تو بات یہ ہے
ہم خود اپنی ذات کے جنگل سے ہی باہر نہیں نکلے
جدھر دیکھو
جبلت ہی جبلت ہے
جہاں بستی چلانے کے لئے حیوان ہی طاقت میں ہوں
تم کیا کرو گی
لوگ تو قدرت کی شاپنگ کر رہے ہیں
اور کبھی بھی حرص سے باہر نہیں نکلے

فرحت عباس شاہ

**********************

میں چپ رہا

میں نے پوچھا
آنسوؤں کا بوجھ
آنکھوں سے زیادہ دل پر کیوں پڑتا ہے
اس نے کہا
ایسی باتیں مجھے سمجھ نہیں آتی
میں چپ رہا
اور اپنے دل پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو محسوس کرنے لگا

فرحت عباس شاہ

**********************

وغیرہ وغیرہ

میں بولا
چاند، ستاروں، پھولوں، اور بہاروں کی باتیں
آنسوؤں اور دل کے ٹوٹے ہوئے کناروں سے جڑی ہوتی ہیں
اس نے کہا
یہ سب شاعرانہ باتیں ہیں
میں نے کہا کیا مطلب ہے؟
اس نے کہا حقیقت کچھ اور ہے
میں نے پوچھا مثلاً۔۔۔؟
اس نے کہا
زندگی، محنت، کامیابیاں، عیش و عشرت وغیرہ وغیرہ
میں نے کہا
موت، انسان، رشتے، جھوٹ، فریب، بیماریاں، غم وغیرہ وغیرہ۔۔؟
اس نے کہا
زندگی کے روشن پہلوؤں کے بارے بھی سوچو
میں نے سوچا
ہاں شاید وغیرہ وغیرہ

فرحت عباس شاہ

**********************

اس نے بے خیالی میں کہا

میں نے کہا
کیا میری بیچینیاں تمہیں سنائی دیتی ہیں۔۔۔؟
کیا میری اداسیاں تمہیں دکھائی دیتی ہیں۔۔۔؟
کیا میری تنہائیاں تمہیں محسوس ہوتی ہیں۔۔۔؟
اس نے بے خیالی میں کہا
ہاں ہاں کیوں نہیں
میں نے کہا تو پھر۔۔۔؟
اس نے پھر اسی بے خیالی میں کہا
ہاں ہاں کیوں نہیں

فرحت عباس شاہ

**********************

میں نے کہا

نا کام آرزوئیں
محرومیاں 
رائیگانی
ویرانی تنہائی
مجبوری
تھکن
شکست خوردگی
بے چارگی
بوجھ
گھبراہٹ۔۔۔
اور کتنا کچھ۔۔۔؟
اس نے کہا
یہی۔۔۔۔

فرحت عباس شاہ

**********************

کچھ بھی نہیں

میں نے کہا
کیا میں اچھا ہونے کی بنیاد پر
لمحہ بہ لمحہ جلتا مرتا رہوں گا۔۔۔؟
اس نے کہا
اچھائی اور جلنا سُلگنا فطرت کا حصہ ہے
میں نے کہا اور اس کے علاوہ؟
اس نے کہا کچھ بھی نہیں 
میں نے پوچھا
کیا میں اس دائرے سے نکل سکتا ہوں۔۔۔؟
اس نے کہا
ہاں لیکن موت کے کنارے کنارے
اور غم کے سہارے سہارے

فرحت عباس شاہ

**********************
خدا میری سہیلی ہے
**********************

خاموشی۔۔۔
پھر وہی خاموشی۔۔۔
خاموشی اور بین۔۔۔
اور ورم آلود پپوٹے
اور بھاری پن
دکھ کی بھی جڑیں ہوتی ہیں
اندر ہی اندر پھیلتی چلی جانے والی
خاردار اور نوکیلی
ایک دکھ میں بہت سارے بیج ہوتے ہیں
جو سارئ کے سارے درخت بن جاتے ہیں
اندر ہی اندر
اور تناور ہوتے چلے جاتے ہیں اور خاموشی چھا جاتی ہے
ایک بے سہارا دل
چپ کے درختوں کے نرغے میں آیا ہوا
جہاں دھوپ چھ اطراف سے پڑتی ہے
اور چیخنے بھی نہیں دیتی
میں پانی پیوں گا۔۔؟
یا روتا ہی رہوں گا۔۔۔؟
آنکھوں میں آنسو تو باقی بچے نہیں
خالی دکھ بہتا رہتا ہے
اور پھر آخر کار خاموشی
اور آسمان دور چلا جاتا ہے
ظاہر ہے
ایک مثبت تسلی کب تک ساتھ دے سکتی ہے
میں اب اپنے اندر خاک پر بیٹھ گیا ہوں
اور راکھ میں نے سر میں رچا لی ہے
میں نے خاموشی کا سنگھار کیا ہے
آہستہ آہستہ یہ سنگھار بڑھتا جا رہا ہے
ایک دن آئے گا جب میں خاموشی کی دلہن بن جاؤں گا
اور آنسوؤں کی بارات آئے گی
آہوں کا میلہ لگے گا
پتہ نہیں میرے لئے کوئی بین گانے والا بھی ہو گا کہ نہیں
موسم تو ہمیشہ وحشی اور اکھڑ گھوڑوں کی طرح رہے 
سخت اور پتھریلے سموں والے
اور مجھے روندتے رہے
غم کب تک میرے پرورش کرے گا
معلوم نہیں وہ سڑک ہر بار دور جا کے
میری طرف پلٹ کیوں آتی ہے
جو میری تنہائی کے احساس کا سانپ ہے
میں اب اور کتنا نیلا ہو سکتا ہوں
ایک پرانا اور مستقل گھاؤ
وقت نے بھی مجھے عین دل کے مقام پر ڈسا ہے
تھوڑا ادھر ادھر ہو جاتا تو کیا تھا
میں اس طرح کا نہیں رہا
میں تو کسی طرح کا نہیں رہا
تو پھر مجبور کون ہوا؟
میں یا خدا۔۔؟
یا دونوں۔۔؟
اگر میں خدا کا حصہ ہوں
تو میں غم ہی غم ہوں
اپنی چپ کے سینے پر قطرہ قطرہ ٹپکنے والا
پگھلا ہوا روگ
میں کائنات کی بصیرت پر ہنس دیتا ہوں
جب ایک بچہ اپنی انگلی کاٹ لینے پر حیران ہو کر رو پڑتا ہے
اور اپنے دل پر گرا ہوا زخم اٹھا لیتا ہوں
تمہارا کیا خیال ہے؟
زخم اٹھاتے ہیں اور چل پڑتے ہیں
زخم اٹھا لیتے ہیں اور خط رہنے دیتے ہیں
زخم بھی تو خط ہی ہیں جو زندگی نے ہمیں لکھے ہیں
آنکھوں کے پوسٹ بکس اٹھائے عرصہ بیت گیا
وقت کے اختتام پر صرف خاموشی ہوتی ہے
یا کسی سہمے ہوئے آنسو کی لکیر
یا میلے رخساروں پر پانی کا نشان
اور چپ
نوکیلے خار اور دیگر چھوٹی چھوٹی چبھ جانے والی چیزیں
کیا اب کوئی اور مذہب ایجاد کرنا پڑے گا
اور کیا پھر ایک بار نئے سرے سے صراط مستقیم بتانا پڑے گا
موت کو شکست دینے والا مذہب
یا طفل تسلی
یا پریوں کے دیس کی کوئی کہانی
خوابوں کی افادیت خوابوں کے سمجھ نہ آنے تک ہی ہوتی ہے
ورنہ راز راز ہی دفن ہو جاتے ہیں
سکھ کی خواہش میں طے کیے گئے راز
اور خوابوں کے کونے کھدرے
بیچارے
Exposed
مذہب نہ ہوتے تو ان لوگوں کا کیا بنتا
اربوں اور کھربوں حیوان
لیکن مجھے تعمیری نظام چن لینے کا بھی کیا فائدہ ہوا
یا پتہ نہیں میں کس شے کو فائدہ سمجھ رہا ہوں
یا پتہ نہیں فائدہ کیا ہوتا ہے
نقصان، نقصان، نقصان
محبت
جب ہم تکلیف کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیتے ہیں
اور اس کا ماتھا چومتے ہیں
اور سمجھتے ہیں کہ قبر کی بے ساختہ ہنسی کچھ بھی نہیں ہوتی
سانسوں سے چپو چلانا
دل کی دھڑکنوں کے کندھوں پر دھرا ہوا بوجھ تو
صدیوں کی کمریں جھکا دیتا ہے
اب میں خدا، اور وطن کے دھوکے میں آنے والا نہیں ہوں
میں صرف انسانیت کے دھوکے میں آ سکتا ہوں
وہ بھی شاید جانتے بوجھتے
بندھے ہوئے سانسوں اور جھکی ہوئی کمر سمیت
اور کسی بھی خط کی پرواہ کیے بغیر
آزادی طاقتور کا جھوٹ
اور کمزور کی التجا نہ ہوتی تو کیا کسی لڑکی کا برہنہ جسم ہوتی
یا فحش خیالات اور بے شرمی
اور قوائد و ضوابط کا ڈھکو سلہ
کیا زندگی چھوٹے چھوٹے لاوارث پتھر اٹھاتے بیت جائے گی
کیا ہماری بنیاد لاوارث پتھروں کے علاوہ
کسی اور اینٹ سے نہیں رکھی جا سکتی تھی
کیا یہ بھی کسی کتاب میں لکھا ہے
یا کوئی اوتار آ کر بتا گیا تھا
حیف ہو بادشاہوں پر
ایسے بادشاہوں پر
جیسے ہمارے ہیں
ناسور ہونے پر فخر کرنے والے
مغرور غلاظتیں
اچھا تو یہی ہے کہ ہم اپنی اداس شاموں سے باہر ہی نہ آئیں
اور دکھ بھرے گیت گنگناتے رہیں
اور ادھ کھلی نظموں کی کونپلوں سے کھیلتے رہیں
اور ویران راتوں سے ٹیک لگا کر جاگتے رہیں
خشک آنکھوں سے روتے رہیں
کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی آنسوؤں کا خدا بھی تو ہو گا
یا یہ بھی راز والی ہی بات ہے۔۔۔؟
سوجی ہوئی آنکھوں اور پتھرائے ہوئے پپوٹوں والے راز
اور زہریلی اداسی
اور دکھی ہوئی بے چینی
حوصلہ ہار جانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا
غم کے چھوٹے چھوٹے خانے بنا لینے سے 
ہو سکتا ہے شدت میں کمی آ جاتی ہو
غموں کی تعداد میں برابر اضافہ ہو جاتا ہے
رات رینگتی رہتی ہے
اور ہم سوچتے رہتے ہیں
ہو سکتا ہے کائنات کسی پرانے درد کا پچھتاوا ہو
اور ہمیں کہاوتوں میں الجھا لینے والے جال کی خفت کے ہاتھوں مجبور ہو گئی ہو
اگر جنت کا لالچ اور دوزخ کا ڈر نہ ہو
یہ انسان کتنا نیچ ہے
یا ڈر
یا لالچ
اور محبت صرف خود غرضی
اور محرومیوں کا مداوا
اور دل کی 
Exploitation
آنسوؤں کی کوئی قیمت ہوتی تو میں کتنا دولت مند ہوتا
اور کسی جنت دوزخ کے لالچ اور خوف کے بغیر
نیکی کر سکتا
اور اعتراف کے طور پر مذہب ایجاد کرتا
اور کمینے انسانوں کی زد سے
معصوموں کو بچانے کی ناکام کوشش کرتا
اور اپنے آپ سے سرخرو ہوتا
اور بے شک کہہ دیتا کہ میں اپنے رب کے سامنے سرخرو ہوا
جنگ ہوتی ہے
کروڑوں بے گناہ مارے جاتے ہیں
اور ہم رب تلاش کرتے رہتے ہیں
رب جنگیں پسند کرتا ہے
اس لئے دخل نہیں دیتا
خدا ہماری کسی بات میں دخل نہیں دیتا
بس ہماری آخری تسلی اور آخری پناہ ثابت ہوتا رہتا ہے
میں نے اپنے رب کو اپنے غموں سے پہچانا ہے
اور تمہارے رب کو تمہاری خود غرضی سے
جو خدا کو پہچانتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ غمزدہ وہی ہوتا ہے
میرے اور میری موت کے درمیان
چند بے سہارا پودے ہیں
اور ایک محدود مدت
اور ایک دکھ بھری تگ و دو
حقیقتوں کی شناخت نے مجھے موت سے پہلے ہی مار دیا ہے
ہو سکتا ہے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاؤں
میرے بدن کی کھاد
کسی پیڑ کو سر سبز کر جائے
یہی دوسرا جنم ہوتا ہے
فطرت کی کرشمہ سازیاں 
اور زندگی کی قلابازیاں
وقت ہمیں حالات کی ایک گلی سے دوسری گلی میں
دھکیلنے والا انتظار ہے
جو اکثر پورا ہوتا رہتا ہے
پورے تو صرف خواب نہیں ہوتے
وہ بھی ہم جیسوں کے خواب
ان جیسوں کے خواب تو ہوتے ہی پورے ہونے کے لیے ہیں
میں نے اپنی تمام جیبوں سے ہر طرح کی آرزوئیں
نکال پھینکی ہیں
اور خدا کے نام منسوب کیا گیا کلام پڑھتا رہتا ہوں
خدا کا کلام
یہی محبت ہے
یہی عشق ہے
میں تو شاید ایک شعر بھی کسی کو نہ دے سکوں
اور اتنا سارا کلام
اور اتنا بڑا کلام
تمام تعریفیں صرف اللہ کی
اور انسان صرف خطا کا پتلا
اور ہمیشہ خسارے میں 
کیا خدا بھی خسارے میں ہے
دنیا کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے
خدا مجھے ملتا تو میں اس کے گلے لگ کر روتا
اور تعزیت کرتا
اور اس کا دکھ بانٹتا
اور کہتا کہ اے میرے غمزدہ خدا
حوصلہ رکھو
اللہ بہتر کرے گا
اور وہ کچھ دیر کے لئے اچھا ہو جاتا
صابر اور اداس

فرحت عباس شاہ

**********************

میں بھاگ رہا ہوں
مسلسل بھاگ رہا ہوں
ہزار مونہا خوف میری ٹانگیں اور میرے پاؤں بن گیا ہے
اور مجھے کہیں رکنے نہیں دے رہا
کسی کو کیا پتہ خدا کہیں آگے ہے
یا پھر کہیں پیچھے رہ گیا ہے
اب میں ایک مسلسل بھاگنے والا سہما ہوا شخص کیا کروں
خد ا مجھے نہ تو کوئی بہت بڑی کر سی پر بیٹھا ہوا
کوئی بہت بڑا انسان لگتا ہے
نہ بہت سارے ہاتھوں والا کوئی بُت
مجھے وہ صرف ایک نظام لگتا ہے
جو ہر جگہ موجود ہے
نیوٹرون میں بھی
اور کہکشاؤں میں بھی
پتھروں میں بھی اور پھولوں میں بھی
ہوا میں بھی
اور خلا میں بھی
خوشی میں بھی
اور دکھوں میں بھی
یہ میری ذاتی بات ہے
وہ خوشی سے کہیں زیادہ غموں میں موجود ہے
اس لئے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے اپنے رب کو
اپنے غموں سے پہچانا 
اور ساتھ ہی رو پڑتا ہوں
اور آنسوؤں پر بندھے ہوئے تمام بند ٹوٹ جاتے ہیں
میری رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے
میں اپنے آنسوؤں کے مقابلے پر اتر آتا ہوں
ہمیشہ کی طرح
ہار جانے کے لئے
شاید میں نظام کے چکر کا حصہ ہوں
وہاں یہی کچھ ہے
میں نے اپنی تقدیر کو بھی اسی طرح پہچانا ہے

فرحت عباس شاہ

**********************

مجھے لگتا ہے
خدا صرف غمزدہ لوگوں کا ہوتا ہے
دکھے ہوئے دل والوں کا
اگر میں یہ کہہ دوں
خدا میری سہیلی ہے
تو کیا خدا ناراض ہو جائے گا
اور میرے غموں میں اضافہ کر دے گا
پھر غموں کی ریاضت
نظام کے غموں والی نگری میں مجھے زیادہ بااختیار کر دے گی
دکھوں کی دھوپ چھاؤں پر میرا اختیار بڑھ جائے گا
حتیٰ کہ میں غموں کے اور صبر کے اور آنسوؤں کے معجزے
بپا کرنے کے قابل ہو جاؤں گا
اور میری دعا سے اور میری خواہش کی سچائی اور شدت سے
اور آرزو کی
Purity
سے 
لوگوں کے دکھ کم ہو جائیں گے
یا ان کے صبر کی قوت بڑھ جائے گی
اور پھر ایک دن میرا وجود مجھے دھوکہ دے گا
ہر شے اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے
میرا وجود مٹی کی طرف لوٹ جائے گا
اور میں صرف لوگوں کے دلوں اور اپنے کاموں میں رہ جاؤں گا
میرے غم میری نیکیاں ہیں
میں اپنے اچھے کاموں کی یاد میں اچھا ہوں
اور یہی میری جنت ہے
ٹائیں ٹائیں فش
اور پھر۔۔۔؟
کیا پھر وہی خلا۔۔؟
یہاں بھی۔۔۔؟
وہاں بھی۔۔۔؟
وہی آنسو۔۔۔ اور دھاڑیں ۔۔۔ رونا ہی رونا۔۔۔
اداسی
گہری اور سیاہ
اور ایک عجیب شکنجہ
دل اور روح کے گرد۔۔۔
زور سے کسا ہوا۔۔۔
اگلا جہان بھی پچھلا ہی جہان نکلا
اور میں تو کہیں کا بھی نہ رہا
پتہ نہیں میں کہیں کا تھا بھی نہیں
کیا انسان کہیں کا ہے
شاید کہیں کا بھی نہیں
میں جو موت کے سانحے کو اس کی تمام تر خوفناکی سمیت
بغیر کسی سہارے، تسلی اور ہمت بندھانے والے عقیدے کے
قبول کرنے والا ہوں
میں بھی کہیں کا نہیں ہوں

فرحت عباس شاہ

**********************

مستعار، عقیدتوں والے تو گئے
اور اتنے سارے رنگ
اور اتنے سارے پھول
اور اتنے سارے دریا
جھرنے
باغ 
خوشبو
اور اچھی ہوا
میرے تو خواب بھی صرف خوف والے ہیں
حالانکہ بھاگتے اب میں تھک جاتا ہوں
خوابوں میں سستانے کو کوئی جگہ ہی نہیں
دوڑتے رہنے کو بہت ہے
جب میری سانسیں میرے بدن کے گوشت میں
پیوست ہو جاتی ہیں
اور دوسرے سرے سے انہیں کوئی کھینچنا شروع کر دیتا ہے
مجھے اپنی مظلومیت پر ترس آتا ہے
میں دلاسے ڈھونڈنے نکل پڑتا ہوں
ناکام
جب میرے پپوٹے پتھر بن جاتے ہیں
اور کوئی انہیں میری زخمی آنکھوں پر گرانا شروع کر دیتا ہے
اور میں بستی والوں کو
اپنی لہو لہو آنکھوں سے دیکھتا ہوں
تب تک ان کے درندوں والے دانت
بہت بڑھ چکے ہوتے ہیں
وہ ہنسنا چاہتے ہیں
مگر صرف غرا سکتے ہیں
بے وفائی کے گریبانوں والے
اور کچے کانوں والے
خدا کو واپس لوٹنے والے طعنے
آدھے خبیث
آدھے فضول
اور مظلوم
بس چند دوسری طرح کے
 غمزدہ اور اداس روہانسے
اور تنہا
اور بہت زیادہ تنہا
دکھتی ہوئی پسلیوں میں زخم پرونے والے کب ختم ہوں گے؟
کب ختم ہوں گے۔۔۔؟
پلکوں کے گرد زنجیریں لپیٹ لپیٹ کر کھینچنے والے
ہمیں ہمارے آنسوؤں کی گردشوں میں باندھ باندھ کے
کب تک گھسیٹتے رہیں گے
نوکیلے دانتوں والا معاشرہ
جنگلوں میں معصوم جانوروں کی انتڑیاں تک ادھیڑ کر
چوس جانے والے
شہروں میں آگئے ہیں
فوج اور پولیس بن کر
اور ہر وقت ہرنوں اور بچھڑوں کی گردنیں تکتے رہتےہیں
اور جھپٹ پڑتے ہیں
کیا دنیا میں صرف دو ہی طبقے ہیں
ایک طاقت ور اور دوسرا کمزور
ایک ظالم اور دوسرا مظلوم
ایک بات اور بھی سمجھنے والی ابھی رہتی ہے
اگر آخری پیغمبر آ چکا ہے
تو اب کون آئے گا
کیا یہ معاشرے بیٹیوں کو زمین میں
زندہ دفن کر دینے والوں سے بہتر ہیں
یہ بھی تو یہی کر رہے ہیں
کبھی اپنی تو کبھی دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ
اور اب تو پیغمبر بھی کوئی نہیں آئے گا
اچھی بات یہی ہے
میں عقیدوں سے گھبراتا نہیں
نا ہی ٹکرا جانا چاہتا ہوں
سمجھنا چاہتا ہوں
سمجھ لینا بہت ساری بیماریوں اور دکھوں کا علاج ہے
بعض دکھ سمجھ لینے سے بڑھ بھی جاتے ہیں
میں نے سمجھا تھا
میرے قتل ہونے پر ہی سیا ہی کے غلیظ کارندے
مجھے خبروں کا موضوع بنائیں گے
یہ تو بہت ہی بے صبرے نکلے
اپنے ضمیر کی ناپاک سیاہی اڑا اڑا کر
صاف شفاف دامنوں کو آلودہ کرنے والے
یہ بھی خون اڑانے والوں جیسے ہی ہیں
آئے دن کسی نہ کسی کا خون اڑاتے اڑاتے
سیاہی اڑانا چاہتے ہیں
ناپاک اندھیرے کے نطفے
حرام زدگی کی کوکھ میں پرورش پانے والے
میرے قتل ہو جانے کا انتظار ہی نہیں کر سکے
اگر میں قدرے مضبوط ہوں تو غم و غصے سے بھرا پڑا ہوں
اور اگر قدرے کمزور ہوں تو بے بسی سے مرا پڑا ہوں
اور دکھی ہوئی پوروں سے
دیواروں پر غم لکھتا پھرتا ہوں
کون سہارے والا ہے
اور کون بے سہارا
سب برابر ہیں
وطن اب میرے لیے وہ غار ہے
جس میں جیون بھر مقید ہو کر
مجھے بے بسی اور غم کی ریاضت کرنی ہے
ایک دن میری میت باہر آئے گی
ہو سکتا ہے میرے بعد میری میت کوئی اعلان کر دے
سال ہا سال غاروں میں زخموں کی تسبیح کرنے والے
یہی تو کیا کرتے ہیں 
درختوں سے لیا ہوا قرض
واپس کرنا ہی پڑتا ہے
چھاؤں ہمیشہ کے لئے بھی نہیں ملتی
اور دھوپ آدھی مہربان ہوتی ہے
خوف اور ویرانی کی خلش
کب تک چھپی رہ سکتی ہے
اگر مجھ سے کوئی پوچھتا ہے 
تقدیر کیا ہوتی ہے
میں فوراً ہی بتا دیتا ہوں
حادثات کی لکیریں
اور اتفاقات کے دائرے
میں جب بھی اپنی لکیر تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں
دائرے مجھے گھیر لیتے ہیں
اور جب دائرے پا لینا چاہتا ہوں
لکیریں کسی تلوار کی طرح میرے وجود میں اتر جاتی ہیں
یہ کوئی ایک جنگ تو ہے نہیں
جانے کیسے کیسے محاذ ہیں
اور کیسے کیسے دشمن
یہ بہت مشکل اور جان لیوا ہے
اس تمام تاریکی میں
اور اس تمام دکھ میں
بس ایک ہی روشنی ہے
اور یہی سچ بھی ہے
کہ خدا میری سہیلی ہے
جسے میں نے اپنے غموں سے پہچانا

فرحت عباس شاہ

**********************
اختتام
**********************
وہ کہتی ہے
**********************
فرحت عباس شاہ
**********************

1 comments:

  • 10 January 2022 at 05:41

    فرحت عباس شاہ صرف شاعر نہیں ہیں ہر نوجوان دل کی دھڑکن ہیں۔ فرحت عباس ایک نام ہے احساس کا اور فرحت عباس کی شاعری دکھی دلوں کی مسیحا ہے اور معاشرے کی پردہ چاکی کرنے والی تیز دھاری تلوار ہے۔
    فرحت عباس اس معاشرے کی بے حسی کو سامنے لانے والے کومل لب و لہجہ کے کامیاب اور ہر دل عزیز شاعر ہیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔