Commercials
فرحت عباس شاہ کی کتابیں
- آ لگا جنگل در و دیوار سے
- آنکھوں کے پار چاند
- ابھی خواب ہے
- اداس شامیں اجاڑ رستے
- اکیسویں صدی کی پہلی نظم
- اے عشق ہمیں آزاد کرو
- بارشوں کے موسم میں
- تاجدارِ حرم
- تیرے کچھ خواب
- جدائی راستہ روکے کھڑی ہے
- چاند پر زور نہیں
- خیال سو رہے تم - طویل نظم
- دل دے ہتھ مہار
- روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل
- سوال درد کا ہے
- شام کے بعد - اول
- شام کے بعد - دوم
- عشق نرالا مذہب ہے
- کہاں ہو تم
- مت بول پیا کے لہجے میں
- مرا انتظار قدیم ہے
- محبت چپ نہیں رہتی
- محبت ذات ہوتی ہے
- محبت کی آخری ادھوری نظم۔۔۔رابعہ
- محبت گمشدہ میری
- ملو ہم سے
- من پنچھی بے چین
- موت زدہ
- وہ کہتی ہے
- ہجرعبادت بن جاتا ہے
- یاد آؤں اگر اُداسی میں
موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
Search This Blog
Categories
- azaad ghazal (3)
- daily city42 column (1)
- facebook column (2)
- geet (7)
- ghazal (41)
- nazm (20)
- punjabi ghazal (3)
- punjabi nazm (3)
- tabsira (4)
Farhat Abbas Shah
Unpublished Poetry
Featured post
saiyan zaat adhoori hai
سائیاں ذات ادھوری ہے سائیاں ذات ادھوری ہے سائیاں بات ادھوری ہے سائیاں رات ادھوری ہے سائیاں مات ادھوری ہے دشمن چوکنا ہے لیکن ...
Thursday, 28 January 2016
Wednesday, 27 January 2016
yaad achanak koi kaam ajata hai
یاد اچانک کوئی کام آجاتا ہے
روتے روتے اب آرام آ جاتا ہے
بل آجاتا ہے لوگوں کے ماتھے پر
جب بھی فرحت تیرا نام آجاتا ہے
ہم تو ابھی آغاز میں ہوتے ہیں مصروف
اور اچانک ہی انجام آجاتا ہے
خوشیاں ڈھونڈنے نکلا ہوا دیوانہ دل
لوٹ کے روزانہ ناکام آجاتا ہے
شہر میں اب کوئی بھی اگر سچ بولے تو
میرے ہی سر پر الزام آجاتا ہے
فرحت عباس شاہ
aa kisi roz kisi dukh pe ikathay royen
آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں
جس طرح مرگ جواں سال پہ دیہاتوں میں
بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں
جس طرح ایک سیاہ پوش پرندے کےکہیں گرنے سے
ڈار کے ڈار زمینوں پہ اتر آتے ہیں
چیختے شور مچاتے ہوئے کرلاتے ہوئے
اپنے محروم رویوں کی المناکی پر
اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا
اک نئے دکھ کے اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں
اپنی ہی ذات کے گنجل میں الجھ کر تنہا
اپنے گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں
قافلہ چھوڑ کے صحرا میں صدا ٹھیک نہیں
ہم پرندے ہیں نہ مقتول ہوائیں پھر بھی
آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں
فرحت عباس شاہ
shaam k paar koi rehta hai
شام کے پار کوئی رہتا ہے
ہجر اور ڈوبتے سورج کی قسم
شام کے پار کوئی رہتا ہے
جسکی یادوں سے بندھی رہتی ہے دھڑکن دل کی
اور اسے دیکھ کے سینے میں یہی لگتا ہے
جیسے ویرانے میں بیمار کوئی رہتا ہے
ہم بہت چپ بھی نہیں رہ سکتے
دور تک ڈھلتے ہوئے سائے اڑاتے ہیں مذاق
اور کہتے ہیں کہ اے زرد ادواسی والے
تم تو خاموش شجر ہو کوئی
اور جھونکے سے بھی ڈر جاتے ہو
صبح ہوتی ہے تو امید سے جی اٹھتے ہو
شام ہوتی ہے تو مر جاتے ہو
ہجر اور ڈوبتے سورج کی قسم
دور تک ڈھلتے ہوئے سائے اڑاتے ہیں مذاق
شام کے پار کوئی رہتا ہے
فرحت عباس شاہ
dekh lena k kisi dukh ki kahani to nahi
دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں
یہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں
عشق اور درد سے بھر دیں ہیں کتابیں ہم نے
یہ جو سب کچھ ہے مری جان زبانی تو نہیں
جس طرح شہر سے نکلا ہوں میں بیمار ترا
یہ اُجڑنا ہے، کوئی نقل مکانی تو نہیں
جانتا ہوں کہ سرابوں میں گھرا ہوں یارو
دوڑ پڑتا ہوں مگر پھر بھی کہ پانی تو نہیں
بچھ گئی ہے تیرے ماتم کو جو اب قسمت سے
ہم نے یہ صف دلِ صحرا سے اُٹھانی تو نہیں
اُس نے چاہا ہے مُجھے اپنے خُدا سے بڑھ کر
میں نے یہ بات زمانے کو بتانی تو نہیں
یہ جو ہر موڑ پہ آ ملتی ہے مُجھ سے فرحت
بدنصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں
فرحت عباس شاہ
is ghareebi main guzara nahi hota mola
اس غریبی میں گزارہ نہیں ہوتا مولا
غیب سے کوئی اشارہ نہیں ہوتا مولا
مجھ کو ہجرت کی کوئی راہ سجھا ہمت دے
مجھ سے یہ شہر گوارا نہیں ہوتا مولا
جب میں گھر جاتا ہوں انبوہِ مصائب میں کبھی
تجھ بنا کوئی سہارا نہیں ہوتا مولا
سوچتا ہوں تو ہر اک سمت سمندر ہی ملے
دیکھتا ہوں تو کنارہ نہیں ہوتا مولا
کچھ نہ کچھ پھر بھی کہیں کوئی کمی رہتی ہے
چاند ہوتا ہے ستارہ نہیں ہوتا مولا
فرحت عباس شاہ
ae dil e rayegaan udaas udaas
اے دل رائیگاں اداس اداس
پھر رہے ہو کہاں اداس اداس
چاند اک عمر سے سفر میں ہے
آسماں آسماں اداس اداس
جب بھی دیکھا ہے جھانک کر دل میں
ہو گیا سب جہاں اداس اداس
زندگی کھیل ہے اداسی کا
ہم یہاں تم وہاں اداس اداس
پھرتے رہتے ہیں ہم محبت میں
مضمحل ناتواں اداس اداس
کیا اداسی سوا نہیں کچھ بھی
اے مرے لامکاں اداس اداس
رات بھر جاگتے ہو کیوں آخر
اس طرح میری جاں اداس اداس
اک طرف غم ہیں اک طرف خوشیاں
اور میں درمیاں اداس اداس
سارے کردار ہیں محبت کے
داستاں داستاں اداس اداس
یہ وہی ہیں ہمارے فرحت جی
شاعرِ بے کراں اداس اداس
ہم سے حساس لوگ فرحت جی
رہ رہے ہیں یہاں اداس اداس
فرحت عباس شاہ
das farhat shah asee ki kariye
بُجھارت
دس فرحت شاہ اسیں کی کریے
ساڈا کوئی نہ لاوے مُل
اسیں نازاں پلّے ماپیاں دے
اَج گئے وٹیاں وچ رُل
کئی چنگے بھیڑے رَل مل کے
سانوں رَج کے پھیرَن جھُل
اِنج ہاسے ساڈے ہوٹھاں تے
جیویں قبراں اُتّے پھُل
اِنج ہنجو ساڈی اکھیاں چوں
جیویں موگھے جاوَن کھُل
**************
دس فرحت شاہ اسیں کی کریے
ساڈے شہر اِچ کالی رات
ساڈے رشتے ناتے بھیڑیاں نل
ساڈی ٹھگاں نل گل بات
ساڈے سِر تے چھبّا گِٹکاں دا
ہتھّ چھلڑاں بھری پرات
ساڈے کپڑے آ آ سب ویکھن
ساڈی کوئی نہ پُچھے ذات
سانوں ڈر گلیاں وچ سَد مارن
سانوں حدشے پاون جھات
**************
دس فرحت شاہ اسیں کی کریے
سانوں چین نہ امن قرار
کوئی بھانبھڑ بلدائے ہر راتیں
ساڈے سینے دے وچکار
سانوں رستے کھاون اَمدے ہن
ساڈے ساہ گھُٹدِن گھر بار
ہِک پیڑ اجیہی چُپ کیتی
کرے لہو دے وچ سُرکار
ہِک یاد اساڈے دل دے وچ
جیویں دو دھاری تلوار
**************
دس فرحت شاہ اسیں کی کریے
فرحت عباس شاہ
shehr e veeran k darwazay se lag kar roye
شہر ویران کے دروازے سے لگ کر روئے
اپنی پہچان کے دروازے سے لگ کر روئے
اتنا پتھر تھا مکاں اس کا کہ یوں لگتا تھا
ہم بیابان کے دروازے سے لگ کر روئے
اب تو ہم کتنی دفعہ آنکھوں کی عادت کے طفیل
غم کے امکان کے دروازے سے لگ کر روئے
اب اگر ٹوٹ گئے ہو تو شکایت کیسی
کیوں کسی مان کے دروازے سے لگ کر روئے
ہم ستائے ہوئے دنیا کے ترے بعد اکثر
تیرے احسان کے دروازے سے لگ کر روئے
کوئی آواز تسلی نہ دلاسہ نکلا
کیسے انسان کے دروازے سے لگ کر روئے
ہم نے کب دل سے کہا تھا بھری برساتوں میں
تیرے پیمان کے دروازے سے لگ کر روئے
دل کے دروازے پہ روئے تو لگا ہے فرحت
جیسے زندان کے دروازے سے لگ کر روئے
فرحت عباس شاہ
deeda e num main sukoon dhoondtay hain
دیدہ نم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
ہم ترے غم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
شہر بھر سے ہیں مراسم اپنے
پھر بھی کم کم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
ہم بہت ہیچ عزادار ترے
تیرے ماتم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
لوگ گھبرائے ہوئے بارش کے
خشک موسم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
آپ کے نام میں سکھ پاتے ہیں
آپ کے دم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
تجھ سے ہم اس لیے ملتے ہیں بہت
ربطِ پیہم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
فرحت عباس شاہ
khoo gaye ho yeh tum kahan jaanan
کھو گئے ہو یہ تم کہاں جاناں
چار سو ہیں اداسیاں جاناں
ورنہ اک روز مل ہی جاتے ہم
عمر آئی ہے درمیاں جاناں
تم کو دھوکہ ہوا تھا بارش کا
رو دیا ہو گا آسماں جاناں
ہجر ہر موڑ پر کھڑا ہوگا
بھاگ کر جاؤ گے کہاں جاناں
شام ہوتے ہی چھیڑ دیتا ہے
دل مرا دکھ کی داستاں جاناں
دل نے پھر چھیڑ دی غزل کوئی
پھر طبیعت ہوئی رواں جاناں
ایک دنیا ہوئی ہے فرحت سے
تم بھی ہو جاؤ بد گماں جاناں
فرحت عباس شاہ
sanson ki hararat se pighal janay ka mosam
سانسوں کی حرارت سے پگھل جانے کا موسم
آیا ہے تری آنچ میں جل جانے کا موسم
ہم کو نہیں معلوم تھا ہے عشق کا آغاز
یادوں میں کہیں دور نکل جانے کا موسم
لگتا ہے کہ چہرے پہ ترے ٹھہر گیا ہے
یک لخت کئی رنگ بدل جانے کا موسم
اے شہر تسلی ترے مشکور ہیں لیکن
آیا ہی نہیں دل کے سنبھل جانے کا موسم
یہ شہر تمنا بھی انوکھا ہے کہ اس پر
برسات میں بھی رہتا ہے تھل جانے کا موسم
چہرے پہ اگرچہ ہے مرے صبح کا اجالا
آنکھوں میں مگر شام کے ڈھل جانے کا موسم
فرحت عباس شاہ
ruttan badlan tu thora jeha pehle
رُتاں بدلن توں تھوڑا جیہا پہلے
***********
ساڈے شہروں ٹر گئے چنگے دن
ساڈی عمراں لے گئے نال
اسیں جھلّی فکر جوانی دی
ساڈئ چٹّے ہو گئے وال
سانوں بھُل گیا رووَن دکھّاں تے
ساڈی اکھیں پے گیا کال
ساڈی اکھیں چانن ترس گِیاں
ساڈے لِسّے پے گئے خاب
ساتھوں رُس گئے موسم خوشیاں دے
سانوں لڑ گئے پھُل غُلاب
سانوں ساون چھوڑ کے ٹُر، نَس گئے
ساتھوں دُھپٗاں لَوِن حساب
۔۔۔
اسیں رُنّے ترینہہ وِچ اکھیں دے
سانوں ہَس ہَس ویکھن تھل
اسیں گوڈیاں بھار سفر کیتے
ساڈی رستیاں لاہ لئی کھَل
ساڈی فصلاں پانیاں مار دِتی
ساڈی وستی چل گئے ھَل
۔۔۔
اسیں کلّے رہ گئے جھوٹھیاں وچ
ساڈا لکھ کے لے گئے ناں
ساڈے پیریں جُتّی سفراں دی
ساڈے سِر تے دُھپ دی چھاں
چا ہتھّاں نال بنیریاں نوں
اسیں لبھدے پھرئے کاں
۔۔۔
اسیں ڈھاڈھے اوکھے ساہ لَو یے
ساڈے سینے دے وچ کِل
اِتھے دلّاں دے اندر زخم ہووَن
ساڈے زخماں اندر دل
کدیں آپے پٹیاں بَنھ بَویے
کدیں آپے بَویے چھِل
۔۔۔
ساڈے شہروں ٹر گئے چنگے دن
ساڈی عمراں لے گئے نال
فرحت عباس شاہ
(دل دے ہتھ مہار)
main us dholay di mang
اکھّ اِچ جس دے تارے بھکھدے
ہتھ چانن دی ونگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
رَتّے لال انار لُکا کے
لے گئے جس دا رنگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
جِس دی خاطر کیتی دل نے
سبھّ دنیا نل جنگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
جس دی خاطر عمراں ساری
کٹّی بھکھ تے ننگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
جس دے بعد وچھوڑے والیاں
شاماں مارن ڈنگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
فرحت عباس شاہ
isi se hota hai zaahir jo haal dard ka hai
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری
تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے
اب اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا
یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے
یہ دل، یہ اجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائی
ہمارے پاس تو جو بھی ہے مال درد کا ہے
یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل میں
مری نگاہ میں سارا کمال درد کا ہے
اسیر ہے مری شاخِ نصیب پت جھڑ میں
مِرے پرندہء دل پر بھی جال درد کا ہے
بدل گئے مرے حالاتِ دل تو کیا ہوگا
یہ ایسی بات ہے جس میں زوال درد کا ہے
دلوں پہ زندہ تھا دل ہی نہیں رہے ہیں یہاں
اب ایسے شہر میں جینا محال درد کا ہے
جمود توڑتی آنکھیں سکوت توڑتے لب
یہ ناک نقشہ یہ سب خدّو حال درد کا ہے
سنا ہے تیرے نگر جا بسا ہے بیچارہ
سناؤ کیسا وہاں حال چال درد کا ہے
وگرنہ خار و خزاں کے سوا نہیں کچھ بھی
بس ایک پھول مری ڈال ڈال درد کا ہے
اکھڑتی جاتی ہے دیوانہ وار ایڑیوں سے
زمینِ جاں پہ ہماری دھمال درد کا ہے
فقیر بیٹھے ہوئے ہیں بہت سکون سے ہم
تری جدائی کی کٹیا ہے پیال درد کا ہے
کہ ہم نے کس کے لئے جاں عذاب میں ڈالی
ہمیں تو آج بھی خود سے ملال درد کا ہے
ہمارے سینے میں دل کی جگہ یہ پتھر ہے
اسی لیے تو یہاں ایسا کال درد کا ہے
تمہاری چاہ نے ڈھونڈی تھی میری آبادی
یہ گھاؤ سینے کی بستی میں کھال درد کا ہے
یہ عشق ہے اسے تیمار داریاں کیسی
اسے نہ پوچھ یہ بوڑھا نڈھال درد کا ہے
ہم اس کو دیکھتے جاتے ہیں روتے جاتے ہیں
یہ صحنِ شب میں پڑا ہے جو تھال درد کا ہے
نہ تم میں سکھ کی کوئی بات ہے نہ مجھ میں ہے
تمہارا اور مِرا ملنا وصال درد کا ہے
ابھی کہیں سے کڑی کوئی بھی نہیں ٹوٹی
ابھی تو سلسلہ سارا بحال درد کا ہے
مِری طرف سے گزر کا خیال رہنے دو
یہ راستہ بھی بہت پائمال درد کا ہے
دل و نظر تو رہیں گے سکون میں لیکن
شبِ فراق مجھے احتمال درد کا ہے
کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیں
ہمارے پاس یہی کچھ مآل درد کا ہے
یہیں کہیں مِرے اندر کوئی تڑپتا ہے
یہیں کہیں پہ کوئی یرغمال درد کا ہے
اسی لیے تو ہمیں عجز کا قرینہ ہے
ہماری ذات میں جاہ و جلال درد کا ہے
وہیں کہیں کسی گھاٹی میں تیرا ہجر بھی ہے
مِرے لہو سے جہاں اِتّصال درد کا ہے
نفس نفس پہ پڑے آبلوں سے لگتا ہے
نہ جانے روح میں کب سے اُبال درد کا ہے
یہی تو فرق ہے ان میں اور آپ میں فرحت
کسی کو اپنا کسی کو خیال درد کا ہے
Tuesday, 26 January 2016
tera hijr bara badzaat
ترا ہجر بڑا بدذات
مرے سوکھ گئے سب پھل
مرے سپنے ہو گئے شل
کوئی بھیج دکھوں کا حل
مرے اجڑ گئے سب شہر
مری رگ رگ اندر زہر
مرے دل کے اندر تھل
مری آنکھوں میں برسات
ترا ہجر بڑا بدذات
میں پھرا بہت گھر گھر
کوئی کھلا ملا نہ در
ابھی اڑتا اور مگر
مرے زخمی ہو گئے پر
مرے کالے ہوئے نصیب
مرے حصے آئی صلیب
مرے دل سے جائے نہ ڈر
مرے سر سے کٹے نہ رات
ترا ہجر بڑا بدذات
جب بدل گئے حالات
لگی قدم قدم پر گھات
ہر سمت بکھر گئے پات
ہم مَلتے رہ گئے ہاتھ
تری چاہ میں چھوڑا جھنگ
تری خاطر ہوئے ملنگ
تری خاطر بدلی ذات
کیا سورج کو بھی رات
ترا ہجر بڑا بدذات سجن
ترا ہجر بڑا بدذات
فرحت عباس شاہ
ye ajeeb meri muhabbaten
یہ عجیب میری محبتیں
کوئی پوچھ لے تو میں کیا کہوں
اُسے کیا بتاؤں
یہ روز و شب تو جنم جنم پہ محیط ہیں
مرے زخم زخم دل و نظر
مجھے اس جنم میں نہیں ملے
میرے رتجگے میرے ہمسفر
میرے ساتھ آج نہیں چلے
یہ مہیب وحشتِ فکر جو
میرے نقش نقش کی روح ہے
کوئی بے ثبات بیاں نہیں
یہ تو آتماؤں کا عکس ہے
یہ تو دیوتاؤں کا دھیان ہے
یہ تو جانے کیسی
صدی صدی کی اذیتوں کا گیان ہے
یہ عجیب میرے غم و الم
یہ نصیب سنگِ سیاہ پر
یہ ورق ورق پہ گڑے قلم
یہ کڑا حصار نیا نہیں
میرا انتظار قدیم ہے
میرا اس سے پیار قدیم ہے
یہ عجیب میری محبتیں
فرحت عباس شاہ
jab se hua tu ankhon main mehmaan piya
جب سے ہوا تو آنکھوں میں مہمان پیا
اڑتے پھرتے ہیں ہر سُو ارمان پیا
پیڑ بھی تم بن اکھڑے اکھڑے پھرتے ہیں
اور راہیں بھی پھرتی ہیں ویران پیا
تو نے کون سا پیچھے مڑ کر دیکھا ہے
ہنستا بستا شہر ہوا ویران پیا
دکھ میں سب ہو جاتے ہیں انجان پیا
ان باتوں پہ کیا ہونا حیران پیا
عقل پہ پردہ پڑتا ہے تو پڑنے دے
جاتا ہے تو جانے دے ایمان پیا
فرحت عباس شاہ
(من پنچھی بے چین)
























