Thursday, 28 January 2016

main sunata hon kahani moat ki

0 comments
میں سناتا ہوں کہانی موت کی
میں نے دیکھی ہے جوانی موت کی

سیدھا ہو جاتا ہے دل کے آر پار
ہجر بھی تو ہے نشانی موت کی

باقی سب کچھ دیکھ لیتا ہوں مگر
عشق اور اک ناگہانی موت کی

اور اک شکوہ سلانا ہے وہاں
میں نے اک صف ہے بچھانی موت کی

ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں یہاں
ہر طرف رُت ہے سہانی موت کی

فرحت عباس شاہ


Wednesday, 27 January 2016

dil k andar jan se pyaray ki tarah

0 comments
دل کے اندر جاں سے پیارے کی طرح
غم کو بھی رکھا سہارے کی طرح

مرد کا آنسو تھا کیسی شان سے
آنکھ سے ٹپکا ستارے کی طرح

چپ رہا کرتا ہے میرے سامنے
سرد موسم کے نظارے کی طرح

بہہ نکلتا ہے محبت میں سدا
دل کسی دریا کے دھارے کی طرح

خواب میں اکثر بھٹکتا ہے کوئی
آدمی اک غم کے مارے کی طرح

فرحت عباس شاہ



yaad achanak koi kaam ajata hai

0 comments
یاد اچانک کوئی کام آجاتا ہے
روتے روتے اب آرام آ جاتا ہے

بل آجاتا ہے لوگوں کے ماتھے پر
جب بھی فرحت تیرا نام آجاتا ہے

ہم تو ابھی آغاز میں ہوتے ہیں مصروف
اور اچانک ہی انجام آجاتا ہے

خوشیاں ڈھونڈنے نکلا ہوا دیوانہ دل
لوٹ کے روزانہ ناکام آجاتا ہے

شہر میں اب کوئی بھی اگر سچ بولے تو
میرے ہی سر پر الزام آجاتا ہے

فرحت عباس شاہ


aa kisi roz kisi dukh pe ikathay royen

2 comments
آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں

جس طرح مرگ جواں سال پہ دیہاتوں میں
 بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں
جس طرح ایک سیاہ پوش پرندے کےکہیں گرنے سے
ڈار کے ڈار زمینوں پہ اتر آتے ہیں
چیختے شور مچاتے ہوئے کرلاتے ہوئے
اپنے محروم رویوں کی المناکی پر
اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا
اک نئے دکھ کے اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں
اپنی ہی ذات کے گنجل میں الجھ کر تنہا
اپنے گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں
قافلہ چھوڑ کے صحرا میں صدا ٹھیک نہیں
ہم پرندے ہیں نہ مقتول ہوائیں پھر بھی
آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں

فرحت عباس شاہ


shaam k paar koi rehta hai

0 comments
شام کے پار کوئی رہتا ہے

ہجر اور ڈوبتے سورج کی قسم
شام کے پار کوئی رہتا ہے
جسکی یادوں سے بندھی رہتی ہے دھڑکن دل کی
اور اسے دیکھ کے سینے میں یہی لگتا ہے
جیسے ویرانے میں بیمار کوئی رہتا ہے
ہم بہت چپ بھی نہیں رہ سکتے
دور تک ڈھلتے ہوئے سائے اڑاتے ہیں مذاق
اور کہتے ہیں کہ اے زرد ادواسی والے
تم تو خاموش شجر ہو کوئی
اور جھونکے سے بھی ڈر جاتے ہو
صبح ہوتی ہے تو امید سے جی اٹھتے ہو
شام ہوتی ہے تو مر جاتے ہو
ہجر اور ڈوبتے سورج کی قسم
دور تک ڈھلتے ہوئے سائے اڑاتے ہیں مذاق
شام کے پار کوئی رہتا ہے

فرحت عباس شاہ


dekh lena k kisi dukh ki kahani to nahi

0 comments
دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں
یہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں

عشق اور درد سے بھر دیں ہیں کتابیں ہم نے
یہ جو سب کچھ ہے مری جان زبانی تو نہیں

جس طرح شہر سے نکلا ہوں میں بیمار ترا
یہ اُجڑنا ہے، کوئی نقل مکانی تو نہیں

جانتا ہوں کہ سرابوں میں گھرا ہوں یارو
دوڑ پڑتا ہوں مگر پھر بھی کہ پانی تو نہیں

بچھ گئی ہے تیرے ماتم کو جو اب قسمت سے
ہم نے یہ صف دلِ صحرا سے اُٹھانی تو نہیں

اُس نے چاہا ہے مُجھے اپنے خُدا سے بڑھ کر
میں نے یہ بات زمانے کو بتانی تو نہیں

یہ جو ہر موڑ پہ آ ملتی ہے مُجھ سے فرحت
بدنصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں

فرحت عباس شاہ


is ghareebi main guzara nahi hota mola

0 comments
اس غریبی میں گزارہ نہیں ہوتا مولا
غیب سے کوئی اشارہ نہیں ہوتا مولا

مجھ کو ہجرت کی کوئی راہ سجھا ہمت دے
مجھ سے یہ شہر گوارا نہیں ہوتا مولا

جب میں گھر جاتا ہوں انبوہِ مصائب میں کبھی
تجھ بنا کوئی سہارا نہیں ہوتا مولا

سوچتا ہوں تو ہر اک سمت سمندر ہی ملے
دیکھتا ہوں تو کنارہ نہیں ہوتا مولا

کچھ نہ کچھ پھر بھی کہیں کوئی کمی رہتی ہے
چاند ہوتا ہے ستارہ نہیں ہوتا مولا

فرحت عباس شاہ



ae dil e rayegaan udaas udaas

0 comments
اے دل رائیگاں اداس اداس
پھر رہے ہو کہاں اداس اداس

چاند اک عمر سے سفر میں ہے
آسماں آسماں اداس اداس

جب بھی دیکھا ہے جھانک کر دل میں
ہو گیا سب جہاں اداس اداس

زندگی کھیل ہے اداسی کا
ہم یہاں تم وہاں اداس اداس

پھرتے رہتے ہیں ہم محبت میں
مضمحل ناتواں اداس اداس

کیا اداسی سوا نہیں کچھ بھی
اے مرے لامکاں اداس اداس

رات بھر جاگتے ہو کیوں آخر
اس طرح میری جاں اداس اداس

اک طرف غم ہیں اک طرف خوشیاں
اور میں درمیاں اداس اداس

سارے کردار ہیں محبت کے
داستاں داستاں اداس اداس

یہ وہی ہیں ہمارے فرحت جی
شاعرِ بے کراں اداس اداس

ہم سے حساس لوگ فرحت جی
رہ رہے ہیں یہاں اداس اداس

فرحت عباس شاہ


mera intizar qadeem hai

0 comments
مرا انتظار قدیم ہے
مرا تم سے پیار قدیم ہے

مرے پھوٹے ہوئے نصیب پر
ترا اختیار قدیم ہے

مرے ساتھ دکھ میں ہے آسماں
مرا سوگوار قدیم ہے

فرحت عباس شاہ


gum naam deyaron main safar kiu nahi kartay

1 comments
گمنام دیاروں میں سفر کیوں نہیں کرتے
اجڑے ہوئے لوگوں پہ نظر کیوں نہیں کرتے

یہ خواب یہ خوشیوں بھرے ہنستے ہوئے یہ خواب
یہ خواب مرے دل پہ اثر کیوں نہیں کرتے

کیوں آپ اٹھاتے ہو اداسی کے یہ اسباب
شاموں کے غلاموں کو خبر کیوں نہیں کرتے

فرحت عباس شاہ


das farhat shah asee ki kariye

0 comments
بُجھارت

دس فرحت شاہ اسیں کی کریے
ساڈا کوئی نہ لاوے مُل
اسیں نازاں پلّے ماپیاں دے
اَج گئے وٹیاں وچ رُل
کئی چنگے بھیڑے رَل مل کے
سانوں رَج کے پھیرَن جھُل
اِنج ہاسے ساڈے ہوٹھاں تے
جیویں قبراں اُتّے پھُل
اِنج ہنجو ساڈی اکھیاں چوں
جیویں موگھے جاوَن کھُل

**************

دس فرحت شاہ اسیں کی کریے
ساڈے شہر اِچ کالی رات
ساڈے رشتے ناتے بھیڑیاں نل
ساڈی ٹھگاں نل گل بات
ساڈے سِر تے چھبّا گِٹکاں دا
ہتھّ چھلڑاں بھری پرات
ساڈے کپڑے آ آ سب ویکھن
ساڈی کوئی نہ پُچھے ذات
سانوں ڈر گلیاں وچ سَد مارن
سانوں حدشے پاون جھات

**************

دس فرحت شاہ اسیں کی کریے
سانوں چین نہ امن قرار
کوئی بھانبھڑ بلدائے ہر راتیں
ساڈے سینے دے وچکار
سانوں رستے کھاون اَمدے ہن
ساڈے ساہ گھُٹدِن گھر بار
ہِک پیڑ اجیہی چُپ کیتی
کرے لہو دے وچ سُرکار
ہِک یاد اساڈے دل دے وچ
جیویں دو دھاری تلوار

**************

دس فرحت شاہ اسیں کی کریے

فرحت عباس شاہ


shehr e veeran k darwazay se lag kar roye

0 comments
شہر ویران کے دروازے سے لگ کر روئے
اپنی پہچان کے دروازے سے لگ کر روئے

اتنا پتھر تھا مکاں اس کا کہ یوں لگتا تھا
ہم بیابان کے دروازے سے لگ کر روئے

اب تو ہم کتنی دفعہ آنکھوں کی عادت کے طفیل
غم کے امکان کے دروازے سے لگ کر روئے

اب اگر ٹوٹ گئے ہو تو شکایت کیسی
کیوں کسی مان کے دروازے سے لگ کر روئے

ہم ستائے ہوئے دنیا کے ترے بعد اکثر
تیرے احسان کے دروازے سے لگ کر روئے

کوئی آواز تسلی نہ دلاسہ نکلا
کیسے انسان کے دروازے سے لگ کر روئے

ہم نے کب دل سے کہا تھا بھری برساتوں میں
تیرے پیمان کے دروازے سے لگ کر روئے

دل کے دروازے پہ روئے تو لگا ہے فرحت
جیسے زندان کے دروازے سے لگ کر روئے

فرحت عباس شاہ


deeda e num main sukoon dhoondtay hain

0 comments
دیدہ نم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
ہم ترے غم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں

شہر بھر سے ہیں مراسم اپنے
پھر بھی کم کم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں

ہم بہت ہیچ عزادار ترے
تیرے ماتم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں

لوگ گھبرائے ہوئے بارش کے
خشک موسم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں

آپ کے نام میں سکھ پاتے ہیں
آپ کے دم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں

تجھ سے ہم اس لیے ملتے ہیں بہت
ربطِ پیہم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں

فرحت عباس شاہ


an ginat be hisaab aan basay

0 comments
ان گنت بے حساب آن بسے
آنکھ اجڑی تو خواب آن بسے

دل عجب شہر ہے محبت کا
ہر گلی میں سراب آن بسے

اس سے اچھا تھا تم ہی رہ جاتے
تم گئے اور عذاب آن بسے

تیرے آنے کی رت سے پہلے ہی
کیاریوں میں گلاب آن بسے

آنکھ میں آ کے بس گئے آنسو
آنسوؤں میں سحاب آن بسے

فرحت عباس شاہ


khoo gaye ho yeh tum kahan jaanan

0 comments
کھو گئے ہو یہ تم کہاں جاناں
چار سو ہیں اداسیاں جاناں

ورنہ اک روز مل ہی جاتے ہم
عمر آئی ہے درمیاں جاناں

تم کو دھوکہ ہوا تھا بارش کا
رو دیا ہو گا آسماں جاناں

ہجر ہر موڑ پر کھڑا ہوگا
بھاگ کر جاؤ گے کہاں جاناں

شام ہوتے ہی چھیڑ دیتا ہے
دل مرا دکھ کی داستاں جاناں

دل نے پھر چھیڑ دی غزل کوئی
پھر طبیعت ہوئی رواں جاناں

ایک دنیا ہوئی ہے فرحت سے
تم بھی ہو جاؤ بد گماں جاناں

فرحت عباس شاہ


sanson ki hararat se pighal janay ka mosam

0 comments
سانسوں کی حرارت سے پگھل جانے کا موسم
آیا ہے تری آنچ میں جل جانے کا موسم

ہم کو نہیں معلوم تھا ہے عشق کا آغاز
یادوں میں کہیں دور نکل جانے کا موسم

لگتا ہے کہ چہرے پہ ترے ٹھہر گیا ہے
یک لخت کئی رنگ بدل جانے کا موسم

اے شہر تسلی ترے مشکور ہیں لیکن
آیا ہی نہیں دل کے سنبھل جانے کا موسم

یہ شہر تمنا بھی انوکھا ہے کہ اس پر
برسات میں بھی رہتا ہے تھل جانے کا موسم

چہرے پہ اگرچہ ہے مرے صبح کا اجالا
آنکھوں میں مگر شام کے ڈھل جانے کا موسم

فرحت عباس شاہ


ruttan badlan tu thora jeha pehle

0 comments
رُتاں بدلن توں تھوڑا جیہا پہلے

***********

ساڈے شہروں ٹر گئے چنگے دن
ساڈی عمراں لے گئے نال
اسیں جھلّی فکر جوانی دی
ساڈئ چٹّے ہو گئے وال
سانوں بھُل گیا رووَن دکھّاں تے
ساڈی اکھیں پے گیا کال
ساڈی اکھیں چانن ترس گِیاں
ساڈے لِسّے پے گئے خاب
ساتھوں رُس گئے موسم خوشیاں دے
سانوں لڑ گئے پھُل غُلاب
سانوں ساون چھوڑ کے ٹُر، نَس گئے
ساتھوں دُھپٗاں لَوِن حساب

۔۔۔

اسیں رُنّے ترینہہ وِچ اکھیں دے
سانوں ہَس ہَس ویکھن تھل
اسیں گوڈیاں بھار سفر کیتے
ساڈی رستیاں لاہ لئی کھَل
ساڈی فصلاں پانیاں مار دِتی
ساڈی وستی چل گئے ھَل

۔۔۔

اسیں کلّے رہ گئے جھوٹھیاں وچ
ساڈا لکھ کے لے گئے ناں
ساڈے پیریں جُتّی سفراں دی
ساڈے سِر تے دُھپ دی چھاں
چا ہتھّاں نال بنیریاں نوں
اسیں لبھدے پھرئے کاں

۔۔۔

اسیں ڈھاڈھے اوکھے ساہ لَو یے
ساڈے سینے دے وچ کِل
اِتھے دلّاں دے اندر زخم ہووَن
ساڈے زخماں اندر دل
کدیں آپے پٹیاں بَنھ بَویے
کدیں آپے بَویے چھِل

۔۔۔

ساڈے شہروں ٹر گئے چنگے دن 
ساڈی عمراں لے گئے نال

فرحت عباس شاہ
(دل دے  ہتھ مہار)


main us dholay di mang

0 comments
اکھّ اِچ جس دے تارے بھکھدے
ہتھ چانن دی ونگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
رَتّے لال انار لُکا کے
لے گئے جس دا رنگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
جِس دی خاطر کیتی دل نے
سبھّ دنیا نل جنگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
جس دی خاطر عمراں ساری
کٹّی بھکھ تے ننگ
میں اُس ڈھولے دی منگ
جس دے بعد وچھوڑے والیاں
شاماں مارن ڈنگ
میں اُس ڈھولے دی منگ

فرحت عباس شاہ



isi se hota hai zaahir jo haal dard ka hai

0 comments
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے

سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری
تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے

اب اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا
یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے

یہ دل، یہ اجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائی
ہمارے پاس تو جو بھی ہے مال درد کا ہے

یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل میں
مری نگاہ میں سارا کمال درد کا ہے

اسیر ہے مری شاخِ نصیب پت جھڑ میں
مِرے پرندہء دل پر بھی جال درد کا ہے

بدل گئے مرے حالاتِ دل تو کیا ہوگا
یہ ایسی بات ہے جس میں زوال درد کا ہے

دلوں پہ زندہ تھا دل ہی نہیں رہے ہیں یہاں
اب ایسے شہر میں جینا محال درد کا ہے

جمود توڑتی آنکھیں سکوت توڑتے لب
یہ ناک نقشہ یہ سب خدّو حال درد کا ہے

سنا ہے تیرے نگر جا بسا ہے بیچارہ
سناؤ کیسا وہاں حال چال درد کا ہے

وگرنہ خار و خزاں کے سوا نہیں کچھ بھی
بس ایک پھول مری ڈال ڈال درد کا ہے

اکھڑتی جاتی ہے دیوانہ وار ایڑیوں سے
زمینِ جاں پہ ہماری دھمال درد کا ہے

فقیر بیٹھے ہوئے ہیں بہت سکون سے ہم
تری جدائی کی کٹیا ہے پیال درد کا ہے

کہ ہم نے کس کے لئے جاں عذاب میں ڈالی
ہمیں تو آج بھی خود سے ملال درد کا ہے

ہمارے سینے میں دل کی جگہ یہ پتھر ہے
اسی لیے تو یہاں ایسا کال درد کا ہے

تمہاری چاہ نے ڈھونڈی تھی میری آبادی
یہ گھاؤ سینے کی بستی میں کھال درد کا ہے

یہ عشق ہے اسے تیمار داریاں کیسی
اسے نہ پوچھ یہ بوڑھا نڈھال درد کا ہے

ہم اس کو دیکھتے جاتے ہیں روتے جاتے ہیں
یہ صحنِ شب میں پڑا ہے جو تھال درد کا ہے

نہ تم میں سکھ کی کوئی بات ہے نہ مجھ میں ہے
تمہارا اور مِرا ملنا وصال درد کا ہے

ابھی کہیں سے کڑی کوئی بھی نہیں ٹوٹی
ابھی تو سلسلہ سارا بحال درد کا ہے

مِری طرف سے گزر کا خیال رہنے دو
یہ راستہ بھی بہت پائمال درد کا ہے

دل و نظر تو رہیں گے سکون میں لیکن
شبِ فراق مجھے احتمال درد کا ہے

کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیں
ہمارے پاس یہی کچھ مآل درد کا ہے

یہیں کہیں مِرے اندر کوئی تڑپتا ہے
یہیں کہیں پہ کوئی یرغمال درد کا ہے

اسی لیے تو ہمیں عجز کا قرینہ ہے
ہماری ذات میں جاہ و جلال درد کا ہے

وہیں کہیں کسی گھاٹی میں تیرا ہجر بھی ہے
مِرے لہو سے جہاں اِتّصال درد کا ہے

نفس نفس پہ پڑے آبلوں سے لگتا ہے
نہ جانے روح میں کب سے اُبال درد کا ہے

یہی تو فرق ہے ان میں اور آپ میں فرحت
کسی کو اپنا کسی کو خیال درد کا ہے

کسی نے پوچھا کہ فرحت بہت حسین ہو تم 
تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

فرحت عباس شاہ
(سوال درد کا ہے)



Tuesday, 26 January 2016

tera hijr bara badzaat

0 comments
ترا ہجر بڑا بدذات

مرے پیڑ گئے سب جل
مرے سوکھ گئے سب پھل
مرے سپنے ہو گئے شل
کوئی بھیج دکھوں کا حل
مرے اجڑ گئے سب شہر
مری رگ رگ اندر زہر
مرے دل کے اندر تھل
مری آنکھوں میں برسات
ترا ہجر بڑا بدذات
میں پھرا بہت گھر گھر
کوئی کھلا ملا نہ در
ابھی اڑتا اور مگر
مرے زخمی ہو گئے پر
مرے کالے ہوئے نصیب
مرے حصے آئی صلیب
مرے دل سے جائے نہ ڈر
مرے سر سے کٹے نہ رات
ترا ہجر بڑا بدذات
جب بدل گئے حالات
لگی قدم قدم پر گھات
ہر سمت بکھر گئے پات
ہم مَلتے رہ گئے ہاتھ
تری چاہ میں چھوڑا جھنگ
تری خاطر ہوئے ملنگ
تری خاطر بدلی ذات
کیا سورج کو بھی رات
ترا ہجر بڑا بدذات سجن
ترا ہجر بڑا بدذات

فرحت عباس شاہ


ye ajeeb meri muhabbaten

0 comments
یہ عجیب میری محبتیں

کوئی پوچھ لے تو میں کیا کہوں
اُسے کیا بتاؤں
یہ روز و شب تو جنم جنم پہ محیط ہیں
مرے زخم زخم دل و نظر
مجھے اس جنم میں نہیں ملے
میرے رتجگے میرے ہمسفر
میرے ساتھ آج نہیں چلے
یہ مہیب وحشتِ فکر جو
میرے نقش نقش کی روح ہے
کوئی بے ثبات بیاں نہیں
یہ تو آتماؤں کا عکس ہے
یہ تو دیوتاؤں کا دھیان ہے
یہ تو جانے کیسی
صدی صدی کی اذیتوں کا گیان ہے
یہ عجیب میرے غم و الم
یہ نصیب سنگِ سیاہ پر
یہ ورق ورق پہ گڑے قلم
یہ کڑا حصار نیا نہیں
میرا انتظار قدیم ہے
میرا اس سے پیار قدیم ہے
یہ عجیب میری محبتیں

فرحت عباس شاہ


dhoop

0 comments
دُھوپ

اک دُھوپ انوکھی درد کی
مِرا روپ کرے تبدیل
کبھی تنگ دلوں میں دوڑتی
کرے روشن دل قندیل
کبھی تڑپے سوچ سوال میں
کبھی جاگے خواب نگر
اک دُھوپ انوکھی درد کی
مرے دل میں کر گئی گھر
مرے دل کو کرے اَصیل

فرحت عباس شاہ



deevangi

0 comments
دیوانگی

دل اور دل کے بیچ جو صحرا پڑتا ہے
عقل کے پاس تو پیر بھی مانگے تانگے ہیں
ہاں البتہ دیوانوں کی بات الگ ہے

فرحت عباس شاہ


sadma

1 comments
صدمہ

در کھولا تو
دور دور تک ویرانی تھی
جانے کس نے دستک دی تھی دروازے پر؟

فرحت عباس شاہ


jab se hua tu ankhon main mehmaan piya

0 comments
جب سے ہوا تو آنکھوں میں مہمان پیا
اڑتے پھرتے ہیں ہر سُو ارمان پیا

پیڑ بھی تم بن اکھڑے اکھڑے پھرتے ہیں
اور راہیں بھی پھرتی ہیں ویران پیا

تو نے کون سا پیچھے مڑ کر دیکھا ہے
ہنستا بستا شہر ہوا ویران پیا

دکھ میں سب ہو جاتے ہیں انجان پیا
ان باتوں پہ کیا ہونا حیران پیا

عقل پہ پردہ پڑتا ہے تو پڑنے دے
جاتا ہے تو جانے دے ایمان پیا

فرحت عباس شاہ
(من پنچھی بے چین)