Tuesday 26 January 2016

jab se hua tu ankhon main mehmaan piya

0 comments
جب سے ہوا تو آنکھوں میں مہمان پیا
اڑتے پھرتے ہیں ہر سُو ارمان پیا

پیڑ بھی تم بن اکھڑے اکھڑے پھرتے ہیں
اور راہیں بھی پھرتی ہیں ویران پیا

تو نے کون سا پیچھے مڑ کر دیکھا ہے
ہنستا بستا شہر ہوا ویران پیا

دکھ میں سب ہو جاتے ہیں انجان پیا
ان باتوں پہ کیا ہونا حیران پیا

عقل پہ پردہ پڑتا ہے تو پڑنے دے
جاتا ہے تو جانے دے ایمان پیا

فرحت عباس شاہ
(من پنچھی بے چین)


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔